ممبئی۔ 21 اگسٹ ۔ ( ایجنسیز) کیا آپ نان ویج کے شوقین ہیں؟ کیا آپ فش کری کو شوق سے کھاتے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو آپ کو مچھلی کے بارے میں یہ بات ضرور معلوم ہونی چاہیے۔ عام طور پر کورّہ مینو، شیلوتی، بوچّے اور جیلّہ جیسی مچھلیوں کے نام آپ نے ضرور سنے ہوں گے۔ اسی طرح تھائی مانگور نام کی ایک مچھلی بھی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مچھلی سے تیار کیے گئے پکوان کھانا اپنی جان خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسی ہی 36 ہزار کلوگرام تھائی مانگور مچھلی کو گڑھے کھود کر دفن کردیا گیا۔مذکورہ مچھلیوں میں غذائی اجزاء وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، یہ بجٹ فرینڈلی بھی ہوتی ہیں اور انہیں سالن، فرائی اور پلّو وغیرہ تیار کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن تھائی مانگور کا نام سنتے ہی نان ویج کے شوقین افراد کے گلے میں جیسے لقمہ اٹک جاتا ہے اور وہ پریشان ہوجاتے ہیں۔کم وقت میں زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں بعض تاجر غیر قانونی طریقوں سے ان مچھلیوں کی پرورش کرتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہ مچھلیاں کافی عرصے سے ممنوع ہیں، تاہم اب مہاراشٹرا میں تھائی مانگور مچھلی نے ہلچل مچا دی ہے۔مینگور مچھلی کی پرورش کیے جانے کی اطلاع محکمہ? ماہی گیری کے حکام کو ملی۔ اطلاع ملتے ہی محکمہ? ماہی گیری کے عہدیداروں نے گوگل میپنگ کے ذریعے ان تالابوں کا پتہ لگایا۔ اس کے بعد وہ گاہکوں کا روپ دھار کر وہاں پہنچے اور معاملے کا پردہ فاش کیا۔فوری طور پر 25 مقامی ماہی گیروں کی مدد سے تالابوں پر اچانک دھاوا بول دیا گیا۔ جب جال ڈال کر مچھلیوں کو باہر نکالا جانے لگا تو خود حکام بھی حیران رہ گئے۔ ایک دو نہیں بلکہ مجموعی طور پر 36 ٹن (36,000 کلوگرام) تھائی مانگور مچھلیاں بڑی تعداد میں برآمد ہوئیں۔زہریلے اثرات کی حامل ان 36 ٹن مچھلیوں کو بڑے بڑے گڑھے کھود کر مٹی ڈال کر وہیں دفن کردیا گیا۔کیونکہ ان مچھلیوں کو کھانا گویا منہ کے راستے براہِ راست موت کو دعوت دینا ہے۔ ان مچھلیوں کی پرورش کے لیے صاف پانی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ سڑا ہوا گوشت، چکن کا فضلہ، اسپتالوں کا کچرا اور گندا پانی ان کی بنیادی خوراک ہیں۔ جتنا زیادہ گندا اور مضر فضلہ انہیں کھلایا جائے، یہ اتنی ہی تیزی سے اور زیادہ جسامت میں بڑھتی ہیں۔منافع کے لالچ میں بعض خود غرض افراد عوام کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر ان مچھلیوں کی پرورش کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کے مطابق تھائی مانگور کا استعمال صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ان مچھلیوں کے جسم میں سیسہ (Lead)، آرسینک (Arsenic) اور پارا (Mercury) جیسے انتہائی خطرناک بھاری دھاتوں کی موجودگی کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان کا استعمال جسم کے خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور کینسر سمیت سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ان میں موجود زہریلے کیمیکلز براہِ راست جگر اور گردوں کو متاثر کرسکتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ان اعضا کی کارکردگی متاثر ہوسکتی ہے اور سنگین صورت میں انسانی جان بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ گندے اور ناقابلِ استعمال فضلے کو کھا کر پرورش پانے کی وجہ سے ان کے گوشت میں خطرناک بیکٹیریا بھی موجود ہوسکتے ہیں، جو دل کے امراض، جلدی بیماریوں اور قوتِ مدافعت میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔مارکیٹ میں عام مچھلیوں کے مقابلے میں تھائی مانگور کی قیمت بہت کم ہوتی ہے۔ بعض لوگ اسے ہوٹلوں، بریانی اور سڑک کنارے قائم فش فرائی مراکز میں کم قیمت کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں۔اگر ناگپور میں ضبط کی گئی 36 ٹن مچھلیاں بازار تک پہنچ جاتیں تو ہزاروں گھروں میں ان کا سالن بنتا اور بہت سے لوگوں کی صحت اور زندگی خطرے میں پڑسکتی تھی۔ خوش قسمتی سے حکام نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس خطرے کو ٹال دیا۔ انتباہ: مچھلی صحت کے لیے مفید ہے، لیکن خریدنے سے پہلے یہ ضرور اطمینان کرلیں کہ وہ مقامی اور محفوظ قسم کی مچھلی ہے۔ سیاہ رنگ، منہ کے گرد بڑے بڑے مونچھ نما بال اور انتہائی کم قیمت میں دستیاب ہونے والی ’تھائی مانگور‘ مچھلی سے محتاط رہیں۔