ہندوستان ۔میانمار سائبر دھوکہ دہی کے انسداد کے خواہاں

   

تجارت، سرمایہ کاری، سرحدی انتظام اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم
نئی دہلی، یکم جون (آئی اے این ایس) ہندوستان اور میانمار نے پیرکے روز میانمار کے سرحدی علاقوں میں سرگرم سائبر دھوکہ دہی کے نیٹ ورکس سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر ہندوستان نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف دو طرفہ سلامتی کا معاملہ نہیں بلکہ اس سے نمٹنے کے لیے وسیع علاقائی تعاون بھی ضروری ہے۔ یہ معاملہ نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور میانمارکے صدر یو من آنگ ہلائنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات کے دوران زیر بحث آیا۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خارجہ سیکریٹری وکرم مسری نے کہا کہ ہندوستان اور میانمارگزشتہ کئی برسوں سے سائبر دھوکہ دہی کے مراکز کے خلاف قریبی تعاون کررہے ہیں۔ اس تعاون کے نتیجہ میں گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران میانمار سے2,411 ہندوستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے، جبکہ تقریباً 150 مزید شہری اب بھی وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی مشرقی میانمارکے سرحدی علاقوں میں قائم ان مراکز سے ہزاروں افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہاں پھنسنے والے بیشتر ہندوستانی شہری کسی تیسرے ملک کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کا شکار بن کر پہنچتے ہیں۔ وکرم مسری کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلے کے حل کے لیے صرف دو طرفہ تعاون کافی نہیں بلکہ پورے خطے میں مربوط اور مؤثر تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کو دونوں ممالک کے درمیان مختلف سفارتی فورمز پر بھی مسلسل اٹھایا جاتا رہا ہے۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نریندرمودی اور صدر یو من آنگ ہلائنگ نے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، رابطہ کاری، ترقیاتی شراکت داری، صلاحیت سازی، سرحدی انتظام اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم مودی نے میانمار میں امن اور مذاکرات کے عمل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان وفاقی طرزِ حکمرانی اور اقتصادی ترقی کے اپنے تجربات بھی میانمارکے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔