Wednesday , December 2 2020

ہندو شعراء کی نعت گوئی

مدحت رسول ایسا موضوع ہے جہاں زبان و قلم کو اپنی تنگ دامنی و بے سرو سامانی کا احساس ہوتا ہے اور فکر و خیال کو اپنی بے بسی و مجبوری کا یقین ہوتا ہے۔ اپنی تمام تر توانائیاں صرف کرنے کے بعد یہی کہنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
تھکی ہے فکر رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
ورق تمام ہو اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہئے اس بحر بیکراں کے لئے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم کی معجزاتی ذات گرامی، ظاہری و باطنی، دینی و دنیوی حقیقی و مجازی ہر حسن و زیبائی سے آراستہ و پیراستہ ہے بلکہ تمام محاسن و کمالات آپ ﷺکی بارگاہ عالی میں صف بستہ نیازمند ہیں۔ آپ ﷺکے اوصاف و کمالات کو کماحقہٗ بیان کرنے سے آپؐ کے قریبی رفقاء خاص بھی عاجز و قاصر ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جیسے فصحیح اللسان ، بلیغ البیان مقام رسالت سے حق آگاہ اپنے عجز و انکسار کا اعتراف کرتے ہوئے گویا ہیں : ’’ میرے مانباپ آپ پر قربان! میں نے آپ سے قبل نہ آپ کے بعد کسی کو آپ جیسا نہیں دیکھا ہے‘‘۔
خادم رسول حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : ’’آپﷺ چودھویں کے چاند کے مانند ہیں، آپ ﷺکے جسم مبارک سے مُشک کی خوشبو مہکتی تھی۔ میں نے آپ ﷺکے دستِ مبارک سے زیادہ ملائم کسی ریشم و دیباج کو نہیں پایا‘‘۔
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ آپ ﷺکی رونق و زیبائی کو بیان کرتے ہیں کہ گویا آپؐ کا جسم اقدس چاندی سے تیار ہوا ہے۔
وہ ایسی باکمال ہستی ہے جو سراپا تعریف و مدح ہے، جن کی ہر آن و لحظہ تعریف و توصیف کے قصیدے پڑھے جاتے ہیں، ہرزمان و مکان میں انہی کی مدحت کا چرچا ہوتے رہتا ہے۔ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کے گرویدہ اور دام محبت میں اسیر نظر آتے ہیں۔ حقیقی فضل و کمال تو وہ ہوتا ہے جس کی گواہی دشمن دیا کرتے ہیں۔ مخفی مباد کہ کوئی آفتاب اور ماہتاب کی تعریف کرے یا نہ کرے، اس کی روشنی و ضیا پاشی کا اعتراف کرے یا نہ کرے کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ ایک حقیقت ثابتہ ہے۔ اسی طرح کوئی عقل سلیم رکھنے والا بلا لحاظ مذہب و ملت نبی اکرم ﷺ کے اوصاف و کمالات محاسن و محامد سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس حقائق مسلمہ جیسے آفتاب و ماہتاب کی مانند ناقابل انکار حقیقت ہے جن کی محراب عظمت کے سامنے اپنے، پرائے، دوست و دشمن ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی سر نیاز کو خم کئے ہوئے ہیں۔
نور احمد میرٹھی نے غیر مسلم شعراء کے حالات و نعتیہ کلام پر مشتمل ایک انمول کتاب ’’بہرزماں بہرِ زباں ﷺ ‘‘ تحریر کی ہے جس کے سرسری مطالعہ سے احساس ہوتا ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں مذہبی رواداری اور بقائے باہم کے علاوہ مذاہب کااختلاف و امتیاز ، اپنی اپنی تہذیب کی حفاظت و محبت مسلم رہی ہے اور نہ کسی نہ کسی درجے میں باہمی کشمکش موجود رہی۔ اس کے باوصف ہندو غیرمسلم شعراء کا مذہب و ملت ، تہذیب و تمدن کے قید و بند سے آزاد ہوکر کھلے دل سے نبی اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں نذرانہ عقیدت پیش کرنا قابل صد ٓفریں ہے ۔ چنانچہ غیرمسلم شعراء کے چند ایک اشعار بطور مثال نقل کئے جاتے ہیں :
عیسی سے ہے بڑھ کر لب گویائے محمد
یوسف سے ہے بڑھ کر رُخ زیبائے محمد
(جان رابرٹ)
کچھ عشق پیمبر میں نہیں شرطِ مسلماں
ہے کوثری ہندو بھی طلبگار محمد
(دلو رام ، کوثری)
مبارک ہو زمانہ کو کہ ختم المرسلیں آیا
سحاب رحم بن کر رحمۃ للعالمین آیا
(جگن ناتھ آزاد)
انسان سے کیا طے ہو رہ نعت پیمبر
چلنا جہاں مشکل ہو فرشتوں کی زباں کا
(زیب راجا چنھو لال)
تفوق ، تفضل جیسے سب الفاظ تھے گونگے
نہ تھی تفریق کچھ باقی وہاں آقا غلاموں میں
(مہاتما جیوتی با پھلے)
اس باب میں سینکڑوں ہندو محققین، دانشور اور شعراء ہیں جنھوں نے نبی اکرم ﷺکی سیرت طیبہ کو نہایت باریک بینی سے پڑھا اور ان کے پیش نظر دیگر بانیان مذاہب اور مصلحین کی زندگیاں بھی رہیں، وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ روئے زمین پر کامیاب و پاکباز کوئی ہستی ہے جو دنیائے انسانیت کو نجات دلا سکتی ہے تو وہ صرف نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ غیر مسلم نعت گو شعراء کے قلبی جذبات محض طبع آزمائی کی خاطر یا ازراہِ مصلحت نہیں تھے بلکہ ان میں الفاظ کی بندش، اوزان و قوافی کی مراعات کے ساتھ غیرمعمولی قلبی لگاؤ اور والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار ہوتا ہے جو ان کی قلبی کیفیت کی عکاسی کرتے ہیں ۔
ہر ایک کا حصہ نہیں نعت نبی جوہر
اﷲ جسے بخش دے عرفان محمد
(چندر پرکاش جوہر)
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کردیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کردا
(پنڈت ہری چند اختر)
خاص بات یہ ہے کہ مغربی مفکرین نے جب اسلامی موضوعات پر قلم اُٹھایا اور اپنی تحقیق پیش کی تو کہیں نہ کہیں ان کے دل میں پوشیدہ تعصب کا زہر نکل ہی آتا ہے اور وہ کسی نہ کسی طریقے سے اسلام کے صاف شفاف آئینہ کو گرد و غبار سے آلودہ کرنے کی فکر میں نظر آتے ہیں۔
اس کے برخلاف برصغیر کے ہندو، کائست، سکھ، عیسائی غیر مسلم اُردو شعراء کا کمال ہے کہ انھوں نے نہ صرف سیرت طیبہ کا صدق دل سے مطالعہ کیا بلکہ اظہار عقیدت میں کوئی نہ کوئی حتیٰ کہ وہ اسلامی تعلیم و مزاج کو اس حد تک پی گئے تھے کہ نفس اشعار سے پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کا قائل ایک پیروکار مسلمان ہے یا غیر مسلم۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT