ہند۔ امریکہ تجارتی معاہدہ کے اہم نکات

   

امریکی یا بین الاقوامی معیارات قبول کرنے ہندوستان اندرون چھ ماہ فیصلہ کرے گا

نئی دہلی۔ 7 فروری (یو این آئی) ہندوستان اور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق جاری مشترکہ بیان کے اہم نکات درج ذیل ہیں:6 فروری 2025 کو جاری عبوری معاہدے کا خاکہ مستقبل میں ایک بڑے دو طرفہ تجارتی معاہدے کی بنیاد رکھے گا۔ ہندوستان۔امریکی صنعتی اشیاء اور کئی غذائی و زرعی مصنوعات پر محصول (ٹیرف) ختم کرے گا یا بہت کم کر دے گا۔ان مصنوعات میں ڈرائی ڈسٹلرز گرین، لال جوار (جانوروں کے چارے کیلئے )،بادام، اخروٹ اور دیگر خشک میوہ جات، تازہ اور پراسیسڈ پھل، سویا بین تیل ،وائن اور اسپرٹس وغیرہ شامل ہیں۔امریکہ ہندستانی مصنوعات جیسے ٹیکسٹائل، چمڑا، جوتے ، پلاسٹک، ربڑ، کیمیائی اشیاء، گھریلو سجاوٹ، دستکاری اور کچھ مشینری پر 18 فیصد جوابی محصول عائد کرے گا۔عبوری معاہدہ کامیابی سے مکمل ہونے پر کئی ہندستانی مصنوعات پر یہ محصول مکمل طور پر ختم ہو جائے گا، جن میں جینیرک ادویات، قیمتی پتھر اور ہیرے ، ہوائی جہاز کے پرزے شامل ہیں۔ امریکہ قومی سلامتی سے متعلق کچھ محصولات ختم کرے گا جس سے اسٹیل، ایلومینیم، کاپر اور ہندستانی ہوائی جہاز و پرزہ جات کے کاروبار کو فائدہ ہوگا۔ہندستان کو آٹو موبائل پارٹس کے لیے امریکہ میں خصوصی کم محصول والا کوٹہ ملے گا۔ادویات کے شعبے میں الگ جانچ کے بعد مزید فائدے مل سکتے ہیں۔ دونوں ممالک اہم شعبوں میں ایک دوسرے کو ترجیحی بنیاد پر منڈی تک رسائی دیں گے ۔ ہندستان اگلے پانچ برسوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر کی اشیاء خریدنے کا منصوبہ رکھتا ہے ، جن میں توانائی کی مصنوعات (تیل، گیس) ہوائی جہاز اور پرزے ،قیمتی دھاتیں، ٹیکنالوجی مصنوعات (جیسے جی پی یو، ڈیٹا سینٹر کا سامان) کوکنگ کول شامل ہیں۔ٹیکنالوجی مصنوعات کی تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔دونوں ممالک تجارت میں حائل دیگر رکاوٹیں بھی دور کریں گے ۔ ہندستان امریکی میڈیکل ڈیوائسز، آئی ٹی مصنوعات کی درآمدی لائسنسنگ، معیارات؍ ٹیسٹنگ اور غذائی و زرعی مصنوعات سے متعلق مسائل حل کرے گا۔ ہندستان چھ ماہ میں فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ امریکی یا بین الاقوامی معیارات قبول کر سکتا ہے یا نہیں۔دونوں فریق ڈیجیٹل تجارت کی رکاوٹیں بھی ختم کریں گے اور مستقبل میں مضبوط قوانین بنائیں گے ۔ دیگر اہم نکات میں مصنوعات کے اصل ماخذ سے متعلق قواعد بنائے جائیں گے تاکہ فائدہ بنیادی طور پر ہندستان اور امریکہ کو ہی ملے ۔ ہندستان اور امریکہ سپلائی چین مضبوط کریں گے اور سرمایہ کاری کی جانچ، برآمدی کنٹرول اور اقتصادی سلامتی پر تعاون بڑھائیں گے ۔اگر محصولات میں کوئی تبدیلی ہوئی تو دونوں میں سے کوئی بھی فریق معاہدے میں ترمیم کر سکتا ہے ۔

امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ میں کسانوں کے مفادات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا : گوئل
نئی دہلی۔ 7 فروری (یواین آئی) وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے امریکہ کے ساتھ عبوری تجارتی معاہدے کو “ترقی یافتہ بھارت 2047” کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے ہفتہ کو کہا کہ اس میں ملک کے کسانوں کے مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے امریکہ میں ہندوستانی مصنوعات پر درآمدی محصولات 50 فیصد سے گھٹ کر 18 فیصد ہو جائیں گے اور کئی اشیاء پر صفر محصول لگے گا۔ اس سے 30 ارب ڈالر کی امریکی منڈی ہندوستانی برآمد کنندگان کے لیے کھل جائے گی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں کسانوں کے مفادات کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کسان مخالف لوگ یہ غلط پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ اس سے ہندوستانی کسانوں کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے اس معاہدہ میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے ملک کے کسانوں، دستکاری اور ہتھ کرگھا کو نقصان پہنچے ۔ گوئل نے واضح کیا کہ کسی بھی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) مصنوعات پر محصول کم نہیں کیا گیا ہے ۔ گوشت، پولٹری مصنوعات، ڈیری، چاول، گندم، چینی، راگی، جوار اور باجرا کی درآمد پر کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے ۔ کیلا، چیری، اسٹرابیری، گرین ٹی، کابلی چنا، شہد، تمباکو اور ایتھنول کی درآمد پر بھی کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ دوسری طرف امریکہ میں جوابی درآمدی محصولات گھٹ کر 18 فیصد ہونے سے کھلونوں، کھیلوں سے متعلق اشیاء اور کپڑوں کے برآمد کنندگان کو امریکی منڈی میں بہتر مواقع ملیں گے ۔ امریکہ میں 18 فیصد درآمدی محصول ہندوستان کے تمام پڑوسی اور حریف ممالک کے مقابلے میں کم ہے ۔