4000 میگاواٹ برقی تیار ہوگی ، کاموں کی تکمیل کیلئے ہفتہ وار کیلنڈر کو قطعیت
حیدرآباد /11 ستمبر ( سیاست نیوز ) ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارک نے کہا کہ مارچ 2025 تک یدادری تھرمل پاور پلانٹ کے تمام کام مکمل ہوجائیں گے ۔ سابق بی آر ایس حکومت کی لاپرواہی اور غفلت سے نہ صرف پاور پلانٹ کی تعمیر میں تاخیر ہوئی بلکہ اس کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے یدادری تھرمل پاور پلانٹ یونٹ 2 میں آئیل سنکریجیشن کے کاموں کا آغاز کرنے پر عہدیداروں ، عملہ اور مزدوروں کو حکومت کی جانب سے مبارکباد پیش کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ 8 فروری 2015 کو پاور پلانٹ کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا 17 اکٹوبر 2015 کو کاموں کا آغاز کیا گیا ۔ اکٹوبر 2020 تک 2 یونٹس 2021 تک ماباقی 3 یونٹس کے کاموں کو تکمیل کرنے کا اس وقت کی بی آر ایس حکومت نے نشانہ مختص کیا تھا ۔ مقرر کردہ نشانہ کو حاصل کرنے میں سابق حکومت ناکام ہوگئی ۔ حکومت کی غفلت اور لاپرواہی سے مقررہ وقت پر کام مکمل نہیں ہوئے ۔ جس کی وجہ سے کانگریس حکومت پر اضافی مالی بوجھ عائد ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سابق حکومت نے نیشنل گرین ٹریبونل ( این بی ٹی ) کو بتایا کہ برقی کی پیداوار کیلئے 50 فیصد غیر ملکی اور 50 فیصد دیسی کوئلہ کو استعمال کیا جائے گا ۔ تاہم کے سی آر نے وقت کے ساتھ اپنا فیصلہ بدل لیا ۔ جس کے بعد ماہرین ماحولیات عدالت سے رجوع ہوئے جس کے نتیجہ میں اجازت نامے معطل کردئے گئے ۔ تب ہی بی آر ایس حکومت این بی ٹی کو مطلع کرتی تو پراجکٹ کے کاموں میں کوئی تاخیر نہیں ہوتی تھی ۔ ریاست میں اندرا اماں راجیم قائم ہونے کے بعد این بی ٹی کو درکار عوامی سماعت فروری 2024 میں کرایا گیا ۔ جس کے بعد جولائی میں ای سی کلئیرنس حاصل کیا گیا ۔ جس کے بعد دو یونٹس کے آئیل سنکریجیشن کے کاموں کو مکمل کیا گیا ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ہم نے پراجکٹ کے کاموں کو مکمل کرنے کیلئے ہفتہ وار کیلنڈر کو قطعیت دی ہے ۔ 31 مارچ 2025 تک 4000 میگاواٹ برقی پیدا کرنے کی حکمت عملی تیار کرتے ہوئے کام کیا جارہا ہے ۔ ہم نے اس کے مطابق ہدف مقرر کیا ہے ۔ سڑکوں ، ریلوے ، سیول ورکس کے کاموں کو بھی مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کانگریس حکومت نے پانچ میں سے تین یونٹس کے ذریعہ اس سال کے اواخر تک 2400 میگاواٹ برقی پیدا کرنے کا نشانہ مختص کرتے ہوئے کام کر رہی ہے ۔ ماباقی 2 یونٹس مارچ 2025 تک مکمل کرتے ہوئے 4000 میگاواٹ برقی کی پیداوار کی جائیگی ۔ پراجکٹ کی تکمیل کے بعد کل لاگت کا حساب لگاتے ہوئے یونٹ کی قیمت کا ای آر سی تعین کرے گی ۔ 2