تل ابیب ؍ روم : اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ اٹلی سے مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ کریں گے جبکہ اٹلی کے نائب وزیراعظم ماتیوسالوینی نے فوری طورپراس مطالبہ کی حمایت کردی ہے۔نتن یاہوجمعرات کو تین روزہ دورے پر اٹلی پہنچ رہے ہیں۔وہ جمعہ کو اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی سے ملاقات کریں گے۔دورہ پر روانہ ہونے سے قبل نتن یاہو نے اطالوی اخبار’لاریپبلکا’ کو دیے گئے ایک انٹرویومیں کہا کہ ’’میراماننا ہے،اب وقت آگیا ہے کہ روم یروشلم کو یہود کا آبائی دارالحکومت تسلیم کرے جیسا کہ امریکہ نے عظیم دوستی کے اظہاریے کے طورپرکیا تھا‘‘۔ اسرائیل مقبوضہ بیت المقدس کو اپنا تین ہزار سال قدیم دائمی دارالحکومت قراردیتا ہے لیکن زیادہ ترممالک اسے تسلیم نہیں کرتے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس کی حیثیت اسرائیل فلسطین تنازعہ کے پائیدارحل تک متنازعہ ہے اٹلی کی دائیں بازوکی حکمراں جماعت لیگ کی قیادت کرنے والے سالوینی نے فوری طورپرنتن یاہو کے مطالبے کی حمایت کی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’’میں امن، تاریخ اور سچائی کے نام پر یروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پرہاں کہتا ہوں‘‘۔گذشتہ سال اگست میں وزیر اعظم بننے سے قبل جارجیامیلونی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا اطالوی سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کاکوئی ارادہ نہیں اوروہ اس ضمن میں امریکہ کے فیصلے کی تقلید کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہیں۔میلونی نے کہاکہ ’’یہ ایک سفارتی معاملہ ہے اور وزارت خارجہ کے ساتھ مل کر اس کا جائزہ لیا جانا چاہیے‘‘۔یادرہے کہ اسرائیلی پارلیمان نے 1980 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قراردیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ مشرقی یروشلم کو مقبوضہ اورشہر کی حیثیت کو اس وقت تک متنازع قراردیتی ہے جب تک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے حل نہیں ہو جاتا۔فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل میں قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔