نیویارک : اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور بین الاقوامی امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ یمن میں 2022 ء کے دوسرے نصف حصے میں ایک لاکھ61 ہزار افراد کو قحط سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اندازہ موجودہ اعداد و شمار سے 5گنا زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے 15 اداروں اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے عالمی گروپ کی رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی کے باعث ملک اس وقت تباہی کے دہانے پر ہے اور وقت ہاتھ سے نکلتا جارہا ہے۔ عالمی امداد سے لاکھوں جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ،یمن کی 3کروڑ سے زیادہ کی آبادی میں سے ایک کروڑ 90لاکھ افراد جون سے دسمبر کے دوران خوراک اور بنیاد ضرورت کی اشیا سے محروم رہے۔ رپورٹ کے مطابق 22 لاکھ بچے ،جن میں 5لاکھ38 ہزار ،پہلے ہی غذائیت کی شدید کمی کا شکار ہیںاور تقریباً 13 لاکھ عورتیں سال کے آخر تک غذا کی انتہائی کمی کا نشانہ بن سکتی ہیں۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ،کیتھرین رسل کا کہنا ہے کہ یمن میں زیادہ تر بچے بھوکے سو جاتے ہیں ،جس سے انہیں شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچ سکتا ہے،بلکہ وہ موت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یمن 7سال سے زیادہ عرصہ قبل اس وقت خانہ جنگی کا شکار ہوگیا تھا جب باغی حوثی گروپ نے دارلحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔