ریاض: یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں عدالتی حکام نے ایک بچی کے ریپ اور قتل کے مجرم کو مقدمہ مکمل کرنے کے بعد سزائے موت دی تھی جس پرعملدرآمد کردیا گیا ہے۔بچی کے ریپ اور قتل کے مجرم کو مجمع عام میں سزائے موت دی گئی اور اسے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ مجرم کو دو ماہ قبل ایک کم عمر بچی مہا مدھش کی عصمت دری اور قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔عدن میں جج عمار علوی مسعود کی سربراہی میں مینا عدالت نے گذشتہ نومبر میں پہلا ٹرائل سیشن منعقد کیا جس میں قاتل حسن محمد البنجابی کے ہاتھوں نابالغ لڑکی مہا باسم مدھش کے قتل کے الزام میں ٹرائل شروع کیا گیا تھا۔بچی کے بیدردی کے ساتھ قتل کے واقعہ پرعوامی حلقوں میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا اور وحشیانہ جرم کے مرتکب شخص کو عبرتناک سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔عدالت نے قاتل کو عوام کے مجمع کے سامنے گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے فیصلے پر اتوار کو عمل درآمد کردیا گیا ہے۔14 سالہ ماہا مدھش کو گذشتہ سال نومبر کے وسط میں اغوا، زیادتی اور قتل کر دیا گیا تھا۔ یہ واقعہ عدن کے التواھی ڈاریکٹوریٹ کے الشولہ محلے میں پیش آیا تھا جہاں مہا کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے اہل خانہ نے تلاش شروع کی۔ خاندان کو بچی مردہ حالت میں ملی جس سے قتل کرکے نعش کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا تھا۔