واشنگٹن ۔ یکم ؍ ستمبر (ایجنسیز) امریکی ریاست اتھول کے شہر ایشویل میں ہونے والے جی ٹوینٹی اجلاس میں شرکت کرنے والے حکام کی مشترکہ تصویر سے روسی وزیر فنانس انٹن سیلوانوف کو یورپی ممالک کے شدید اعتراض کے بعد نکال دیا گیا۔ 2022ء میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد پہلی بار ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت کرنے والے سیلوانوف کی موجودگی نے ان یورپی حکام میں سخت ناراٰضی پیدا کر دی جو صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے ماسکو کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مالیاتی امور سے باخبر دو افراد نے فنانسشل ٹائمز کو بتایا کہ گذشتہ روز صبح لی جانے والی مشترکہ تصویر سے بالآخر سیلوانوف کو اس وقت نکال دیا گیا جب زیادہ تر سینئر یورپی حکام نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے سے صاف انکار کر دیا۔جرمن وزیر فنانس لارس کلنگبائل نے ایشویل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جی ٹوینٹی سمٹ میں سیلوانوف کی موجودگی کو انتہائی تشویشناک امر قرار دیا اور مزید کہا کہ وہ یہ پسند کرتے کہ امریکہ کی جانب سے زیادہ واضح موقف اپنایا جاتا کہ انہیں یہاں ایک عام مہمان کے طور پر خوش آمدید نہیں کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ وزیر سکوت بیسنٹ نے سمٹ کے موقع پر سیلوانوف سے ملاقات کی اور محکمہ کے ترجمان نے بتایا کہ بیسنٹ نے روسی وزیر فینانس کے ساتھ ایک نتیجہ خیز میٹنگ کی جس کے دوران انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کی کوششوں کیلئے امریکی صدر کی حمایت پر زور دیا۔
قابل ذکر ہے کہ اپریل 2022ء میں امریکہ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک کے حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعہ سیلوانوف کی شرکت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک اجلاس سے بائیکاٹ کر کے واک آؤٹ کیا تھا۔