یوم تاسیس تقاریب اور’ لوگو‘ میں اقلیتیں اور اردو زبان نظر انداز

   

کے سی آر بی جے پی سے دوستی نبھارہے ہیں، محمد علی شبیر کا الزام
حیدرآباد۔/24 مئی، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے یوم تاسیس تلنگانہ تقاریب میں اقلیتوں اور حیدرآباد کی تہذیب کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر بی جے پی کے دباؤ میں کام کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے 21 روزہ تقاریب کا شیڈول جاری کیا جس میں ایک دن بھی اقلیتی بہبود کیلئے مختص نہیں کیا گیا جبکہ دیگر مذاہب کیلئے خصوصی پروگرامس رکھے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ جدوجہد میں مسلمانوں کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ کے سی آر زبانی طور پر مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے۔ وہ دوبارہ کامیابی کیلئے بی جے پی سے اپنی دوستی نبھارہے ہیں۔ اقلیتی بہبود کی بیشتر اسکیمات کئی برسوں سے ٹھپ ہوچکی ہیں۔ دراصل حکومت کے پاس اقلیتی بہبود کے کوئی کارنامے نہیں ہیں جنہیں عوام میں پیش کیا جاسکے۔ یوم تاسیس تقاریب کے ’ لوگو‘ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کی دوسری سرکاری زبان اردو کو فراموش کردیا گیا۔ لوگو میں یادادری مندر اور بعض تہواروں کی علامات شامل کی گئیں لیکن حیدرآباد کی تاریخی عمارتیں چارمینار، مکہ مسجد اور عثمانیہ یونیورسٹی کو شامل نہیں کیا گیا جبکہ ان کے بغیر حیدرآباد کا تصور ادھورا ہے۔ محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کے نتیجہ میں کے سی آر مخصوص تہذیب اور کلچر کو عوام پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی مدد سے حکومت بچانے کی کوشش کرنے والے کے سی آر کو عوام انتخابات میں سبق سکھائیں گے۔ محمد علی شبیر نے تقاریب کے پروگراموں اور لوگو میں اقلیتوں اور اردو زبان کو نظرانداز کرنے پر بی آر ایس کے اقلیتی قائدین کی خاموشی پر تنقید کی۔ر