یوکرین کی جزوی جنگ بندی کو امریکہ نے بالآخر امید افزاء قرار دیدیا

   

یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات بھی جاری اور جنگ بھی جاری، ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کی پوٹن سے ملاقات متوقع
ریاض؍ واشنگٹن : سعودی عرب میں مذاکرات سے قبل امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے جزوی جنگ بندی کی تجویز انہیں ’امید افزا‘ نظر آتی ہے۔ ادھر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف ماسکو میں روسی صدر پوٹن سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی کوششوں کے دوران ہی دونوں میں شدید لڑائی بھی جاری ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات یوکرین نے روسی دارالحکومت ماسکو کو درجنوں ڈرونز کا نشانہ بنایا۔ حملہ کے سبب آگ بھڑک اٹھی جس کی وجہ سے ماسکو کے دو ہوائی اڈوں کو بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے ٹیلی گرام پر لکھا کہ ڈرونز کو ماسکو ریجن کے رامینسکوئے اور ڈوموڈیڈوو اضلاع میں مار گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق کوئی نقصان یا کسی کو کوئی چوٹ نہیں آئی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ وہ بحیرہ احمر پر واقع سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں منگل کے روز ہونے والے امریکہ اور یوکرین کے درمیان مذاکرات سے پہلے ’پرامید‘ محسوس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین کی طرف سے روس کے ساتھ جنگ کے خاتمہ کے لیے جزوی جنگ بندی کی تجویز میں امید کو دیکھتے ہیں۔ روبیو نے کہا، “میں یہ نہیں کہہ رہا کہ صرف یہی کافی ہے، تاہم یہ ایک اس طرح کی رعایت ہے، جو تنازعے کو ختم کرنے کے لیے آپ کو درکار ہوتی ہے۔ البتہ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ میٹنگ کے دوران اہم بات یہ دیکھنی ہو گی کہ یوکرینی “مشکل کام” کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں، جیسا کہ روسیوں کو بھی جنگ ختم کرنے کے لیے کرنا پڑے گا۔ روبیو نے یہ بھی اشارہ کیا کہ اگر بات چیت اچھی رہی، تو یوکرین مزید امریکی امداد کی توقع کر سکتا ہے۔ انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے غیر رسمی ملاقات کو بھی مسترد نہیں کیا، جو سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں۔ روبیو نے زور دے کر کہا کہ ماسکو اور کیف دونوں کو “اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس صورتحال کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ لہذا اس جنگ کا واحد حل سفارت کاری اور انہیں ایک میز پر لانا ہے، جہاں یہ ممکن ہو سکتا ہے۔ یوکرین کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ توقع ہے کہ کییف منگل کے روز ہونے والے مذاکرات کے دوران روس کے ساتھ فضائی اور بحری جنگ بندی کی تجویز پیش کرے گا۔ واضح رہے کہ روس نے اس سے قبل عارضی جنگ بندی کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ یوکرین کی جانب سے وقت خریدنے اور اپنی عسکری قوت کی تباہی کو روکنے کی ایک کوشش ہے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے لیے سعودی عرب پہنچے تھے۔ انہوں نے پیر کو دیر گئے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا کہ وہ مذاکرات کے ’عملی نتیجے‘ کی امید کر رہے ہیں اور اس میں یوکرین کا موقف بالکل تعمیری ہو گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو روس اور یوکرین کے درمیان تین سال سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے طریقوں پر منگل کے روز یوکرینی حکام کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔