یہودی آبادکاروں کا حملہ ، ایک فلسطینی ہلاک اور 12زخمی

   

یروشلم : مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر اجتماعی حملوں کے نتیجے میں ایک فلسطینی ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیں۔اطلاع کے مطابق دریائے اردن کے مغربی کنارے میں اسرائیل کے خونی چھاپوں کی وجہ سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران یہودی آبادکاروں نے بھی فلسطینیوں پر حملے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔اسرائیلی فوج کے زیرِ حفاظت یہودی آبادکاروں نے رملّہ کے جوار میں واقع ترمسعیا میں فلسطینیوں کی بیسیوں گاڑیوں اور گھروں کو نذرِ آتش کر دیا۔ اس پر ردعمل کا مظاہرہ کرنے والے فلسطینی مکینوں اور یہودی آبادکاروں کے درمیان جھڑپ ہو گئی۔فلسطین وزارت صحت کے جاری کردہ تحریری بیان کے مطابق مسلح یہودی آبادکاروں کے ترمسعیا کے مکینوں پر حملے کے نتیجے میں 4 فلسطینی زخمی ہو گئے ہیں۔زخمیوں کو رملّہ کے فلسطین طب مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ سینے میں گولی لگنے سے شدید زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا ایک زخمی تمام تر مداخلت کے باوجود بچایا نہیں جا سکا۔ترمسعیا کے بلدیہ میئر لافی شیلبی نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی وافا کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 12 فلسطینی جوان اصلی گولیوں سے زخمی ہوئے اور بیسیوں افراد آنسو گیس سے متاثر ہوئے ہیں۔شیلبی کے مطابق یہودی آبادکاروں کی طرف سے کئے گئے حملے میں 30 مکانات اور 60 گاڑیاں جلا دی گئی ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس نے بھی مقبوضہ فلسطین میں جاری تشدد اور جانی نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔