بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دلانے کی تلقین۔ کسی بھی زبان کے سیکھنے پر پابندی نہیں۔ نریندر مودی کا خطاب
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ 2022 میں جب ملک اپنی آزادی کے 75 سال کا جشن منارہا ہوگا ملک کے طلبا ایک نئے نصاب کے تحت تعلیم حاصل کرینگے جو نئی تعلیمی پالیسی کے تحت تیار کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ نیا تعلیمی نصاب مستقبل پر نظر رکھنے والا ‘ آگے بڑھنے والا اور سائنٹفک ہوگا ۔ انہوں نے ’’ اکیسویں صدی میں تعلیمی نصاب ‘‘ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت ایک کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو کم از کم پانچویں جماعت تک ان کی مادری زبان میں یا علاقائی زبان میں تعلیم حاصل کرنی چاہئے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت کسی بھی زبان کو سیکھنے پر کوئی پابندی نہیںہے ۔ بچے انگریزی یا کوئی بھی بین الاقوامی زبان جو انہیں کارآمد ثابت ہو سیکھ سکتے ہیں۔ اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ ہندوستانی زبانوں کو فروغ دیا جانا چاہئے ۔ وزیر اعظم نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ اپوزیشن اقتدار والی کچھ ریاستوں نے نئی تعلیمی پالیسی 2020 پر اعتراضات کئے ہیں۔ کچھ اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی پر ہندی کو فروغ دینے کا الزام بھی تائد کیا ہے تاہم حکومت نے اس کی تردید کی ہے ۔ اپنی تقریر میں وزیر اعظم نے واضح کیا کہ گذشتہ تین دہوں میں دنیا میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں لیکن ہمارا تعلیمی نظام وہی رہا ہے ۔ موجودہ سسٹم کے تحت مارک شیٹ پریشر شیٹ بن گئی ہے اور ارکان خاندان کیلئے یہ وقار کی شیٹ بن گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اس پریشر کو ختم کرنے کی کوشش کی جائیگی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی سے ملک کو اکیسویں صدی میں ایک نئی جہت دی جائیگی ۔ اس کے ذریعہ نئے دور کیلئے بنیاد رکھی جائے گی ۔ ابھی یہ کام پورا نہیں ہوا ہے ۔ نئی تعلیمی پالیسی موثر انداز میں لاگو کی جائے گی اور یہ کام ہم سب کو مشترکہ طور پر کرنا چاہئے ۔ حکومت نے جب اس پالیسی پر رائے طلب کی تو اندرون ایک ہفتے سرکاری پورٹل پر زائد از 15 لاکھ تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ جب ملک میں آزادی کے 75 سال کا جشن منایا جا رہا ہوگا اس وقت ہر طالب علم کو نئی پالیسی کے تحت تیار کی جانے والی رہنما خطوط کے مطابق تعلیم حاصل کرنی ہوگا ۔ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ نئی پالیسی میں بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی گئی ہے ۔ نوجوان نسل ملک کی ترقی کیلئے اہمیت کی حامل ہے ۔ نئی پالیسی میں ہر شعبہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے رہنما خطوط تیار کئے گئے ہیں۔ یہ پالیسی اس انداز سے تیار کی گئی ہے کہ نصاب کو کم کرتے ہوئے بنیاد پر زیادہ توجہ دی جاسکتی ہے ۔ ایک قومی نصابی دائرہ کار تیار کیا جائیگا جس کا مقصد دلچسپی کے ساتھ تجربہ کو فروغ دینا ہوگا ۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب 2022 میں ہم اپنی آزادی کے 75 سال کا جشن منا رہے ہونگے طلبا ایک نئے مستقبل کی سمت قدم رکھیں۔ جو نیا نصاب تیار کیا جائیگا وہ مستقبل کے مطابق ‘ پیشرفت کرنے والا اور سائنٹفک ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کو اہم غور و فکر ‘ اختراعی صلاحیتوں ‘ ترسیل وغیرہ کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی ۔ اس میں نئے دور کی ضروریات کا خیال رکھا جائیگا اور اس بات پر زور دیا جائیگا کہ طلبا 21ویں صدی کیلئے درکار صلاحیتوں کے حامل ہوں ۔ ان میں اختلافی اور اشتراک کی صلاحیتیں ہوں اور وہ اپنی سوچ سے دوسروں کو واقف کرواسکیں۔ وزیر اعظم نے اس بات کی وکالت کی کہ طلبا کو ابتدائی مراحل میں اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنی چاہئے اور اس بات کو ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ زبان تعلیم فراہم کرنے کا ذریعہ ہے ۔