کے سی آر اور کے ٹی آر کو فائدہ، ٹنڈر منسوخ کرنے اور اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ
حیدرآباد۔26۔مئی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ آؤٹر رنگ روڈ ٹول اسکام دہلی کے شراب اسکام سے زیادہ بڑا ہے۔ ایک لاکھ کروڑ مالیاتی اثاثہ جات خانگی ادارہ کو صرف 7000 کروڑ میں حوالے کردیئے گئے ۔ گاندھی بھون میں اے آئی سی سی سکریٹریز ندیم جاوید اور سمپت کمار کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ آؤٹر رنگ روڈ اسکام میں کے ٹی آر راست طور پر ملوث ہیں۔ ٹنڈر کے طریقہ کار میں دھاندلیاں کی گئیں اور ایک مخصوص کمپنی کو ٹنڈر الاٹ کیاگیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹنڈر میں دھاندلیوں کے ذریعہ حاصل ہونے والی رقم میں کے سی آر اور کے ٹی آر کی حصہ داری ہے ۔ سومیش کمار اور اروند کمار نے اسکام میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے آوٹر رنگ روڈ اسکام پر مرکزی حکومت کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کے سی آر کی بدعنوانیوں کا تذکرہ ضرور کرتے ہیں لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے کسی بھی معاملہ میں تحقیقات کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کیلئے 10 فیصد رقم جمع کرنے کی مہلت میں توسیع کی گئی ہے۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ آؤٹر رنگ روڈ ٹنڈر سے متعلق انہوں نے جن اندیشوں کا اظہار کیا تھا، اس کے مطابق نتائج سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ٹنڈر معاملہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ آئی آر بی ادارہ کو الاٹ کردہ ٹنڈر فوری منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے اس معاملہ میں کے ٹی آر سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے شراب معاملہ میں کویتا پر 100 کروڑ روپئے رشوت حاصل کرنے کا الزام ہے۔ اسکام کے سلسلہ میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن کویتا کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ آؤٹر رنگ روڈ پراجکٹ دہلی کے شراب اسکام سے زیادہ بڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی اسکام کے بارے میں تحقیقاتی ایجنسیوں کو شکایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر کشن ریڈی نے اسکام پر آج تک سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ نہیں کیا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت ہے اور ایک دوسرے کے خلاف تحقیقات سے گریز کر رہے ہیں۔ حکومت کی بے قاعدگیوں کے خلاف کانگریس جدوجہد کریگی۔ انہوں نے جی او 111 کی برخواستگی کے فیصلہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ر