آئمہ مؤذنین کو مشاہروں کی اجرائی میں مسلسل تاخیر

   

پجاریوں اور منادر کے دیگر عملہ کیلئے گرین چینل کے تحت تنخواہیں، گنگاجمنی تہذیب کی دھجیاں
حیدرآباد ۔ 15 جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں گنگاجمنی تہذیب کو فروغ دینے کا حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے مگر حقائق بالکل الگ ہیں۔ ائمہ مؤذنین کو ماہانہ مشاہرہ جاری کرنے میں غفلت اور لاپرواہی سے کام لیا جارہا ہے جبکہ پجاریوں اور منادر کے دیگر عملہ کی تنخواہیں ماہانہ بہ پابندی ٹریژری سے گرین چینل کے تحت جاری کیا جارہا ہے۔ ائمہ مؤذنین کا کیا قصور ہے۔ کیا وہ گنگاجمنی تہذیب کا حصہ نہیں ہے۔ ان کے ساتھ انصاف کیوں نہیں ہورہا ہے۔ ریاست میں تقریباً 10 ہزار ائمہ مؤذنین کو حکومت کی جانب سے ماہانہ صرف 5 ہزار روپئے مشاہرہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ کوئی بڑی رقم نہیں ہے۔ سرکاری خزانے پر بہت بڑا بوجھ بھی نہیں ہے۔ باوجود اس کے معمولی رقم کی اجرائی کیلئے ائمہ مؤذنین کو 6 تا 8 ماہ تک انتظار کرنا پڑرہا ہے۔ سب کو معلوم ہے۔ ائمہ مؤذنین کی محدود آمدنی ہوتی ہے۔ گھریلو اخراجات، بچوں کی تعلیم اور دوسرے کئی مسائل ہیں جس پر ہمدردانہ غور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر اس جانب کسی قسم کی توجہ بھی نہیں دی جارہی ہے۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس حکومت کی پہلی میعاد تک اقلیتی وزارت کا قلمدان چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے پاس رکھا تھا جس سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ تلنگانہ تحریک کے دوران چیف منسٹر نے مسلمانوں سے جو وعدے کئے تھے ان سب پر عمل آوری ہوگی مگر مشکل سے پانچ سال میں چیف منسٹر نے اقلیتی مسائل کو جاننے اور اس کو حل کرنے کیلئے محکمہ اقلیت بہبود کا 5 مرتبہ بھی اجلاس طلب نہیں کیا۔ ریاست میں سال 2018ء کے انتخابات میں ٹی آر ایس کو دوسری مرتبہ اقتدار حاصل ہوا مگر اس مرتبہ بھی کسی مسلم قائد کو وزیراقلیتی بہبود نہیں بنایا گیا بلکہ کے ایشور کو وزارت اقلیتی بہبود کی ذمہ داری سونپی گئی۔ عام مسلمانوں کا خیال ہیکہ اگر کسی مسلم قائد کو وزیراقلیتی بہبود بنایا جاتا تو وہ ریاست کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کے مسائل کو حکومت کے ذمہ داروں تک پہنچا سکتا تھا۔ن