بروقت ایک مرتبہ بھی جاری نہیں کیا گیا ، مسلمانوں میں مایوسی
حیدرآباد ۔ 14 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں گذشتہ 5 ماہ سے آئمہ موذنین کا ماہانہ مشاہرہ زیر التواء ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے حکومت اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے معاملے میں کتنا سنجیدہ ہے ۔ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کے فلاح و بہبود کے معاملے میں عہد کی پابند ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ مگر عمل اس کے برخلاف ہوتا ہے ۔ ماہ رمضان سے قبل بھی آئمہ موذنین کے 5 ماہ کے بقایا جات تھے ۔ روزنامہ سیاست نے اس کی خبر شائع کی تب حکومت کی جانب سے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے 4 ماہ کا مشاہرہ بقایا جات جاری کیا گیا ۔ ایک ماہ کے بقایا جات اندرون ہفتہ 10 دن میں جاری کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر آج تک آئمہ موذنین کا مشاہرہ جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ اس پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مسائل سے حکومت کتنا سنجیدہ اس سے اندازہ ہورہا ہے۔ حکومت کی جانب سے ہر شعبہ میں مسلمانوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ پہلے منظورہ بجٹ کی بروقت اجرائی نہیں ہورہی ہے اور کبھی منظورہ اقلیتی بجٹ مکمل جاری نہیں کیا گیا ۔ حکومت میں اقلیتوں کی نمائندگی کے لیے غیر اقلیت کو وزارت اقلیتی امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ دوسری وزارت کی بھی ان کے پاس ذمہ داری ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد سے وزیر اقلیتی بہبود کا قلمدان کسی مسلم قائد کو نہیں دیا گیا ۔ پہلی میعاد میں چیف منسٹر کے سی آر کے پاس اقلیتی بہبود کا قلمدان تھا دوسری میعاد میں کے ایشور کو وزارت اقلیتی بہبود کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے ۔ جب چیف منسٹر کے پاس وزارت اقلیتی بہبود کا قلمدان تھا تب اقلیتوں کو کافی امیدیں وابستہ تھی تب بھی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو مایوسی ہوئی ۔ اب بھی مسلمان مایوس ہیں ۔ ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے اور نہ ہی چیف منسٹر تک کوئی مسلمانوں کی فریاد سنانے والے ہیں اور نہ ہی چیف منسٹر کے سی آر نے کبھی اقلیتوں کے مسائل پر کوئی جائزہ اجلاس طلب کیا ہے جس کی وجہ سے سارے کام زیر التواء پڑے ہوئے ہیں ۔۔ ن