آر آر آر، میٹرو ریل، موسیٰ پراجکٹ، فورتھ سٹی اور دیگر پراجکٹس کیلئے فنڈس مختص کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد 30 جنوری (سیاست نیوز) مرکزی حکومت یکم فبروری کو پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کررہی ہے جس سے تلنگانہ کو بڑی اُمیدیں ہیں۔ ریاستی حکومت نے باوقار پراجکٹس و چند اسکیمات کیلئے تعاون کی مرکز سے اپیل کی۔ مرکز کی اسپانسر اسکیمات کیلئے بھاری رقم مختص کرنے کی تجاویز پیش کی ہیں۔ موسیٰ ڈیولپمنٹ پراجکٹ، ریجنل رنگ روڈ ، میٹرو ریل کی توسیع، فیوچر سٹی، اسکل اور اسپورٹس یونیورسٹی کے بشمول دیگر پراجکٹس کیلئے مرکز سے بھاری فنڈس طلب کئے ہیں۔ تقسیم ریاست قانون میں تلنگانہ کیلئے جن پراجکٹس کا اعلان کیا گیا تھا ان کیلئے فنڈس کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ موسیٰ پراجکٹ کیلئے 14 ہزار کروڑ کی ضرورت ہونے، آئندہ چار سال کے بجٹس کی پیشکشی میں بھی اسی مناسبت سے فنڈس جاری کرنے پر زور دیا۔ گریٹر حیدرآباد کے عوام کو پینے کا پانی سربراہ کرنے دریائے گوداوری کا پانی حیدرآباد منتقل کرنے، موسیٰ ندی کے پانی کی صفائی کیلئے تلنگانہ سے انصاف کا مرکز سے مطالبہ کیا ہے۔ شہر حیدرآباد کو ریجنل رنگ روڈ سے جوڑنے والی ریڈیل سڑکوں کی تعمیر کیلئے فنڈس فراہم کرنے، میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے پراجکٹ کو شہر کے تمام حصوں بالخصوص ایرپورٹ تک توسیع دینے مناسب فنڈس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ میٹرو ریل کی توسیع سے ٹریفک مسائل بڑی حد تک حل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے مرکز سے گرانٹس میں اضافہ کا مطالبہ کیا ہے۔ 2022-23 ء میں گرانٹ کی شکل میں تلنگانہ کو 13,179 کروڑ روپئے موصول ہوئے۔ 2023-24 ء میں 41,259 کروڑ مکا بجٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا۔ تاہم صرف 9730 کروڑ وصول ہوئے جس سے چند اسکیمات کو فنڈس مختص نہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ ریاستی حکومت نے بتایا کہ گزشتہ سال تقریباً 76 فیصد کی کٹوتی ہوئی۔ سال 2024-25 ء بجٹ میں مرکز سے 21,636 گرانٹ ملنا تھا تاہم گزشتہ 9 ماہ میں صرف 4771 کروڑ وصول ہوئے۔ آئندہ تین ماہ میں 5 ہزار کروڑ سے زیادہ وصول نہ ہونے کا عہدیدار اندازہ لگارہے ہیں۔ اس تناظر میں ریاستی حکومت آئندہ سال تمام اسکیمات کیلئے مرکز سے 30 ہزار کروڑ روپئے گرانٹ کا مطالبہ کررہی ہے۔ 2