آئی ایم ایف سے معاشی مدد طلب نہیں کی جارہی: وزیر فینانس پاکستان

   

کراچی 12 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کی جانب سے معاشی بحران سے نمٹنے مدد کیلئے آئی ایم ایف سے رجوع نہیں ہوا جائیگا اور وہ اس بحران سے نمٹنے دوسرے امکانات تلاش کر رہا ہے ۔ وزیر فینانس اسد عمر نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے یہ ریمارکس کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تاجروں کے ایک اجلاس میں کئے ۔ انہوں نے اجلاس کے شرکا سے کہا کہ عمران خان کی قیادت والی حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے کسی طرح کا امدادی پیکج فی الحال طلب نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کی بجائے حکومت پاکستان کی پریشان حال معیشت کو بہتر بنانے کیلئے دوسرے امکانات تلاش کئے جا رہے ہیں۔ نقدی سے محروم پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف سے 8 بلین ڈالرس کے امدادی پیکج کیلئے بات چیت کی اطلاعات ملی تھیں۔ وزیر مسٹر اسد عمر نے کہا کہ حکومت نے کچھ دوست ممالک سے رابطہ کیا ہے تاکہ معاشی مدد حاصل کی جاسکے ۔ ان میں سعودی عرب ‘ چین اور متحدہ عرب امارات بھی شامل ہیں۔ یہ کوششیں عمران خان کے وزارت عظمی سنبھالنے کے بعد سے شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف متبادل امکانات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے۔

اور فی الحال آئی ایم ایف سے رجوع ہونے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان کو اندیشہ ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے مزید سخت شرائط لاگو کی جاسکتی ہیں اس لئے اس سے بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے منی بجٹ کا 23 جنوری کو اعلان کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کراچی اور لاہور میںتاجروں سے بجٹ پر تجاویز طلب کرنے بھی ملاقاتیں کر رہے ہیں۔