محکمہ کے لیے کروڑہا روپئے بقایا جات کی وصولی کا امکان
حیدرآباد۔23جنوری(سیاست نیوز) ریاست بالخصوص حیدرآباد میٹرو پولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں آبرسانی بقایا جات کی وصولی کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے اگر رعایتی شرحوں کا اعلان کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں کروڑہا روپئے وصول ہونے کا امکان ہے۔دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع میں محکمہ آبرسانی کو کروڑہا روپئے وصول طلب ہیں اگر ریاستی حکومت کی جانب سے ٹریفک چالانات میں دی گئی رعایت کے طرز پر اقدامات کرتے ہوئے آبرسانی بقایاجات پر بھی رعایت کا اعلان کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں لاکھوں کی تعداد میں آبرسانی صارفین کی جانب سے بقایا جات کی ادائیگی کے اقدامات کئے جانے کی توقع ہے۔شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے صارفین کی جانب سے اس سلسلہ میں متعدد مرتبہ متعلقہ محکمہ کے عہدیداروں سے نمائندگی کرتے ہوئے توجہ دلائی جاتی رہی ہے اور سابقہ حکومت کی جانب سے چند برس قبل آبرسانی صارفین کے لئے اس طرح کی اسکیم شروع کی گئی تھی اس کے باوجود کئی صارفین اپنے بقایا جات ادا نہیں کرپائے ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں آبرسانی بقایا جات کی عدم ادائیگی کی صورت میںآبرسانی کنکشن منقطع کرنے کے سلسلہ میں کاروائی نہیں کی جاتی کیونکہ آبرسانی کنکشن منقطع کرنا مشکل امر ہوتا ہے اسی لئے ریاستی حکومت سے عوام کی جانب سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ آبرسانی بقایاجات کی ادائیگی کے لئے شہریوں کو ایک موقع دیا جانا چاہئے۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کا کہناہے کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں اقدامات کئے جاتے ہیں تو عوام کو راحت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ محکمہ کو وصول طلب بقاجات کی وصولی میں بھی سہولت ہوگی۔ذرائع کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے ٹریفک چالان کے بقایاجات کی وصولی کے اختتام کے بعد برقی و آبرسانی بقایاجات کی وصولی کے سلسلہ میں بھی اس طرح کے اقدامات کی عوام کی جانب سے توقع کی جا رہی ہے کہا جار ہاہے کہ اگر حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے تو عوام کے لئے فائدہ مندہوگا۔3