آدتیہ ناتھ کو بھی دلت یاد آئے

   

Ferty9 Clinic

اترپردیش کی سیاست میں بہت تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوتی جا رہی ہیں۔ سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کی رفتار بھی بہت تیز ہوگئی ہے ۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ انتخابات سے عین قبل کئی جماعتوں کے قائدین اپنی پارٹی سے ترک تعلق کرتے ہوئے بی جے پی کی صفوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ تاہم اترپردیش میں حالات اس کے برعکس ہوتے جا رہے ہیں۔ چار دنوں میں بی جے پی کے 10 ارکان اسمبلی نے پارٹی چھوڑ دی ہے اور سماجوادی پارٹی میں شامل ہوگئے ہیں۔ ان میں تین وزیر بھی شامل ہیں۔ ویسے تو گوا اور اترکھنڈ میں بھی ایک ایک وزیر نے بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے ۔ تاہم اترپردیش کی سیاست ملک کی سیاست کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور یہاں حالات بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔ جو قائدین بی جے پی سے دوری اختیار کر رہے ہیں ان کی اکثریت دلتوںا ور پچھڑے ہوئے اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتی ہے اور یہ پسماندہ طبقات میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اس صورتحال نے بی جے پی کی نیند اڑا دی ہے اور خود چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کے علاوہ مرکزی قائدین بھی صورتحال پر فکرمند ہوگئے ہیں۔ ریاست کے کئی قائدین کو انحراف کرنے والوں کو منانے کی ذمہ داری دی گئی ہے تاہم ابھی تک یہ کوششیں کامیاب نہیں رہی ہیں۔ اب حالات کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر جو اپنے اقتدار کے ساڑھے چار سال میں کسی کو خاطر میں لانے تیار نہیں تھے خود دلتوں کے گھر پہونچنے لگے ہیں۔ آدتیہ ناتھ نے آج گورکھپور میں ایک دلت کے گھر پہونچ کر کھانا کھایا ۔ ویسے تو ہر ریاست کے انتخابات کے موقع پر بی جے پی کے قائدین دلتوں کے گھر پہونچ کر کھانا کھاتے ہیں اور اس کی تصویر کی کافی تشہیر کی جاتی ہے تاکہ انتخابات میں فائدہ اٹھایا جاسکے ۔ تاہم چیف منسٹر آدتیہ ناتھ کا دلت کے گھر جانا ہر بار کی طرح نہیںہے ۔ اس بار ان کی پارٹی سے دلت اور پسماندہ طبقات کی جو دوری ہورہی ہے اس نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہے ۔ وہ اپنی رضامندی سے نہیں بلکہ سیاسی مجبوریوں کے تحت وہاں پہونچے ہیں۔
آدتیہ ناتھ کی ساڑھے چار سال کی حکمرانی اگر دیکھی جائے تو ریاست میں دلتوں اور دوسرے پسماندہ طبقات پر مظالم کی انتہاء ہوگئی تھی ۔ کہیں دلت لڑکیوں کی عصمت ریزی کی گئی اور انہیں موت کے گھاٹ اتارا گیا تو کہیں ملزمین نے اعلامیہ اور فخریہ اپنے جرم کا اعلان کیا لیکن پولیس نے انہیں چھوا تک نہیں ۔ کہیں متاثرہ خواتین و لڑکیوں کے والدین یا دیگر رشتہ داروں نے قانونی لڑائی کا بیڑہ اٹھایا تو انہیں بھی پولیس تھانوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ۔ کہیں پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کرکے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تو آدتیہ ناتھ حکومت کی ہی پولیس نے راتوں رات رسوم و رواج کا خیال کئے بغیر انہیں نذر آتش کروادیا ۔ کہیں بی جے پی کے قائدین نے دلت خواتین و لڑکیوں کی عصمت ریزی کی تو انہیں انصاف دلانے کی بجائے ملزمین کو بچانے کی ہر ممکن تگ و دو کی گئی ۔ انہیں سر عام رسواء کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا ۔ کہیں دلت مرد و خواتین کو برہنہ کرکے گھماتے ہوئے ان کی عزت نفس کو کچلا گیا تو کہیں ان کے حقوق تلف کرتے ہوئے انہیں حاشیہ پرکردیا گیا ۔ اترپردیش میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں منادر ایسی ہیں جہاں دلتوں اور پسماندہ طبقات کے افراد کو داخلہ تک کی اجازت نہیں ۔ اگر وہ غلطی سے کسی مندر میں چلے بھی جائیں تو بعد میں اسے گنگا جل سے دھویا جاتا ہے ۔ چھوت چھات اور ذات پات کا امتیاز اگر کسی ریاست میں سب سے زیادہ ہے تو وہ اترپردیش ہی ہے ۔
آدتیہ ناتھ کا جہاں تک سوال ہے وہ تو خود کو سب سے افضل سمجھتے ہیں۔ وہ اب تک کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں تھے ۔ اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزراء اور ارکان اسمبلی تک کیلئے دستیاب نہیں تھے ۔ ان کی نمائندگیوں کو برفدان کی نذر کردیا کرتے تھے ۔ تاہم اب جبکہ یہ قائدین اپنی ہتک محسوس کرتے ہوئے بی جے پی سے دور ہوگئے ہیں اور آدتیہ ناتھ کو اپنے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہونے لگی ہے تو وہ کھانا کھانے کسی دلت کے گھر پہونچ گئے ہیں۔ یہ عوام کو گمراہ کرنے اور بیوقوف بنانے کی کوشش ہے لیکن اب اس کیلئے بہت تاخیر ہوچکی ہے اور جو حالات ہیں اور آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ اترپردیش کے دلت اور پسماندہ طبقات ان کے جھانسے میں نہیں آئیں گے ۔