آدتیہ ناتھ کی بوکھلاہٹ و متعصب تبصرے

   

Ferty9 Clinic

اترپردیش کے چیف منسٹر آدتیہ ناتھ اپنی انتہاء درجہ کی متعصب ذہنیت اور فرقہ وارانہ سوچ کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی سوچ صرف مخالف مسلم اقدامات اور تبصروں کے گرد ہی گھومتی ہے ۔ وہ ترقیاتی کاموں اور منصوبوں کے معاملے میں صفر کے برابر ہیں۔ اترپردیش کے عوام کی مشکلات کو دور کرنے میں ان کی کارکردگی انتہاء درجہ کی مایوس کن رہی ہے ۔ وہ صرف فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دیتے ہوئے اپنی سیاست کو چمکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب جبکہ اترپردیش میں انتخابی بگل بج چکا ہے اور آدتیہ ناتھ کو جہاں عوام کی برہمی اور ناراضگی کا سامنا ہے وہیں ان کے ساتھی وزراء اور ارکان اسمبلی نے بھی ان کا ساتھ چھوڑنے ہی میں عافیت سمجھی ہے ۔ تین وزراء اور آٹھ ارکان اسمبلی نے بی جے پی سے ترک تعلق کرلیا ہے ۔ انتخابی سرویز آدتیہ ناتھ کیلئے اطمینان بخش نہیں کہے جاسکتے ۔ اس صورتحال میں آدتیہ ناتھ نے اپنی قدیم روش کو ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ ایک بار پھر مخالف مسلم تبصروں اور ریمارکس کے ذریعہ اکثریتی طبقہ کے ووٹ بٹورنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ چند دن قبل آدتیہ ناتھ نے انتخابات کو 80 فیصد بمقابلہ 20 فیصد قرار دیا تھا ۔ اس سے ان کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے ۔ حالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے متعصب تبصروں پر پابندی عائد کی جاتی ہے لیکن شائد ہی کوئی انتخاب ایسا ہوتا ہے جس میں ایسے تبصرے نہیں کئے جاتے اور ہمیشہ ہی الیکشن کمیشن خاموشی اختیار کرنے میں عافیت محسوس کرتا ہے ۔ آدتیہ ناتھ کے 80 فیصد بمقابلہ 20 فیصد ریمارکس پر بھی الیکشن کمیشن نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور اب ایک بار پھر چیف منسٹر اترپردیش نے حج ہاوز ۔ مانسرور بھون جیسا ریمارک کرتے ہوئے اپنی روش میں کوئی تبدیلی نہ لانے کا اشارہ دیا ہے ۔ ایک طرح سے اس ریمارک کے ذریعہ انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات اور اس کے قوانین کی انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے اور ان کے ذریعہ صرف اپوزیشن کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ اپوزیشن کی جانب سے بھی ہمیشہ یہ شکایت کی جاتی ہے کہ برسر اقتدار جماعت کی خلاف ورزیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ۔
اترپردیش سیاسی اعتبار سے اہمیت کی حامل ریاست ہے اور یہاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے دہلی کے اقتدار کو مستحکم کیا جاسکتا ہے ۔ اسی کوشش میں بی جے پی تمام حدوں کو پار کرنے سے گریز نہیں کر رہی ہے۔ اترپردیش کے گذشتہ اسمبلی انتخابات میں بھی فرقہ وارانہ جنون کو ہوا دی گئی تھی ۔ انتخابات سے قبل مظفرنگر فسادات کو بھڑکاتے ہوئے حالات کو خراب کیا گیا تھا ۔ انتخابی مہم کے دوران خود ملک کے وزیر اعظم نے شمشان ۔ قبرستان جیسے ریمارک کئے تھے اور سماج کے دو اہم طبقات کے مابین نفرت کو ہوا دینے میں اپنا رول ادا کیا تھا ۔ بی جے پی کے دوسرے قائدین کی جانب سے بھی نزاعی اور مذہبی جنون کے مسائل کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ مسلسل مسلمانوںکو نشانہ بناتے ہوئے اکثریتی طبقات کے ووٹ بٹورنے کی حکمت عملی پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی نے تقریبا ہر ریاست میں یہی طریقہ کار اختیار کیا ہے ۔ کوئی ترقیاتی منصوبہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی گذشتہ پانچ سال کے اقتدار میں کئے گئے کاموں کی کوئی فہرست ہوتی ہے جسے عوام کے درمیان پیش کیا جاسکے ۔ محض ہندو ۔ مسلم جذبات کو بھڑکاتے ہوئے سیاست کی جا رہی ہے اور یہ انتہائی منفی روش ہے ۔ یہ منفی سیاست ہے جس سے ریاست اور ملک کی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بی جے پی مرکز میں اور ملک کی کئی ریاستوں میں برسر اقتدار ہے اور اسے منفی سیاست سے گریز کرتے ہوئے مثبت سیاست کی مثال دوسری جماعتوں کیلئے بھی قائم کرنی چاہئے ۔
جس اعتبار سے آدتیہ ناتھ ریمارکس کر رہے ہیں اور سماج میں نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اندرونی سرویز کی رپورٹس ان کیلئے اطمینان بخش نہیں ہے ۔ اترپردیش کے عوام پر انہیں بھروسہ نہیں رہ گیا ہے ۔ وہ عوام کے سامنے اپنی حکومت کے کارنامے بھی پیش کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ ریاست کے عوام کو یو پی حکومت کی نا اہلی اور کورونا بحران کے دوران پیش آنے والی مشکلات ابھی تک یاد ہیں۔ اسی وجہ سے آدتیہ ناتھ فرقہ وارانہ روش کو اختیارکرتے ہوئے نفرت کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اترپردیش کے عوام کو ایسی کوششوں پر نظر رکھنا اور انہیں ناکام بنانا چاہئے ۔