وہ کہتے ہیں میں زندگی ہوں تیری
یہ سچ ہے تو ان کا بھروسا نہیں ہے
اترپردیش میںآدتیہ ناتھ نے بحیثیت چیف منسٹر دوسری میعاد کیلئے آج حلف لے لیا ۔ یہ 37 سال میںپہلی مرتبہ ہے جب کسی حکومت کو لگاتار دوسری میعاد کیلئے اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ ریاست میں ہر پانچ سال میں حکومت بدلنے کی روایت رہی تھی جس کو بدلتے ہوئے ریاست میں بی جے پی کو لگاتار دوسری میعاد کیلئے اقتدار حاصل ہوا ہے ۔ آدتیہ ناتھ حکومت نے اپنے ابتدائی پانچ سال میں ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ بہت کم دی گئی تھی ۔ ریاست میں روزگار کی فراہمی اور زرعی شعبہ کو مستحکم کرنے پر بھی حکومت نے کوئی خاص کام نہیں کیا تھا ۔ ہندوتوا ایجنڈہ اور 80 بمقابلہ 20 کے نعرہ پر اقتدار حاصل کرتے ہوئے آدتیہ ناتھ دوسری میعاد کیلئے چیف منسٹر بن گئے ہیں۔ ریاست میں پہلی میعاد کے دوران عوام کو مسائل درپیش تھے وہ سارے ملک نے دیکھے ہیں۔ ریاست میں انکاؤنٹر عام ہوگئے تھے ۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی بجائے پولیس کے ذریعہ کئی افراد کو انکاؤنٹر کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا ۔ خواتین کی عزت و عصمت کے تحفظ پر کوئی کام نہیں کیا گیا تھا ۔ صرف نعرے بازی کے ذریعہ حکومت کی تشہیر اور پروپگنڈہ کیا گیا تھا ۔ اسی طرح کورونا کی دو لہروں میں ریاست کے عوام کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بے شمار لوگ کورونا کی وجہ سے فوت ہوگئے تھے ۔ ان کی آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے بھی حکومت کی جانب سے کوئی مدد نہیں دی گئی تھی ۔ دریائے گنگا کے کنارے نعشیں بہہ رہی تھیں۔ عوام کے پاس چتا جلانے کیلئے لکڑی تک دستیاب نہیں تھی ۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اپنی کارکردگی کے بلند بانگ دعوے کئے گئے تھے ۔ پہلے میعاد جیسے بھی ختم ہوئی عوام نے دوسری میعاد کیلئے بھی بی جے پی حکومت کو ووٹ دیا ہے ۔ ایسے میں آدتیہ ناتھ حکومت کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ اگر حکومت سنجیدگی سے کام کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو ریاست کی نئی صورت گری ممکن ہے ۔ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کیلئے حکومت کو خاص منصوبہ بندی کرنی چاہئے ۔ ایک بلیو پرنٹ تیار کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جانا چاہئے ۔
روزگار ریاست کا ایک اہم ترین مسئلہ ہے ۔ اس پر حکومت کو پوری سنجیدگی سے کام کرنا چاہئے ۔ نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ ان کو آگے بڑھانے اور پروان چڑھانے کی ضرورت ہے ۔ نوکریاں فراہم کرتے ہوئے عوام کے معیار زندگی کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکتا ہے اور اس سمت میں ضرور کام کیا جانا چاہئے ۔ ریاست میں دلتوں اور اقلیتوں کے ساتھ مظالم کے واقعات بھی عام بات ہوگئے ہیں۔ اس روایت کو بدلنے کیلئے حکومت کو کام کرنا چاہئے ۔ اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ ان کے ساتھ امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جانا چاہئے ۔ ترقی کے ثمرات میں انہیں حصہ دار بناتے ہوئے ریاست کی ترقی میں ان کی مدد لی جاسکتی ہے ۔ اقلیتوں کو دشمن سمجھنے کی بجائے اور انہیں نشانہ بنانے کی بجائے سب کو ساتھ لے کر چلنے کی حکمت عملی بنائی جانی چاہئے جس کے ذریعہ ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔ ہندو ۔ مسلم کا راگ الاپنے کاسلسلہ بند ہونا چاہئے ۔ جو عناصر سماج میں نفرت پھیلاتے ہیں اور تفریق پیدا کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ کسی کے ساتھ بھی مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے ۔ اترپردیش چونکہ ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے اس لئے ہر معاملہ میں اسے ملک کی دوسری ریاستوں کیلئے مثال پیش کرنے کی ضرورت ہے ۔ سماجی ہم آہنگی کو بحال کرنے اور عوام میں ایک دوسرے کے تعلق سے اعتماد بحال کرنے پر توجہ کرنا چاہئے ۔
اترپردیش ملک کی سب سے اہمیت کی حامل ریاست ہے اور یہ اب بھی بدحالی کا شکار ہے ۔ اس بد حالی کو دور کرنے کیلئے فرقہ وارانہ تعصب کو ترک کرنا سب سے پہلی شرط ہے ۔ ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کیلئے منصوبہ بندی کرنی چاہئے ۔ ڈبل انجن کا صرف نعرہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ حقیقی معنوں میں ریاست کی ترقی کیلئے دونوں ہی انجنوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ تعلیم کے مواقع اور بہتر نگہداشت صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے حکومت کوا قدامات کرنے چاہئیں۔ پہلی میعاد کی تلخ یادوں اور تجربات کو تر ک کرتے ہوئے دوسری میعاد میں سماج کے تمام طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا ضروری ہے ۔