آرمور میونسپل کمشنر و دیگر کے خلاف کورٹ کے احکامات پر کریمنل کیس درج

   

آرمور: آرمور میونسپل کمشنر شیلجا منڈل ریوینو سرویر ایس راجو ایس ایچ او راگھا ویندرا کے خلاف کورٹ کے احکامات پر کریمنل کیس درج۔ غیر قانونی طور پر تعمیر کئے جانے والی عمارتوں کی تعمیر میں تعاون کا الزام۔ آرمور میونسپل کے احاطہ میں پرکٹ قومی شاہراہ 63 کے بازو سڑک لے آؤٹ کے نقلی دستاویزات کے ذریعہ غیر قانونی عمارت کی تعمیر کی جارہی ہے۔ اسماء سلطانہ محمدی بیگم متوطن ویلپور نے میونسپل کمشنر شیلجا ریوینو سرویر ایس راجو کے علاوہ ایس ایچ او راگھا ویندرا کو درخواست پیش کی۔ درخواست گزار اسماء بیگم ،محمدی بیگم کوٹارمور شیوار 63 قومی شاہراہ آ آ ای ای 10/1۔ 10/2 سروے نمبر میں جی پی ایل پی نمبر 15/83 میں 3،4،5، پلاٹس میں 821 گز زمین 2006 میں خریدی کرتے ہوئے آرمور رجسٹریشن دفتر میں 2006/461 ڈاکیومینٹ نمبر پر رجسٹریشن کروایا۔ لیکن کوٹارمور سے تعلق رکھنے والے جی نرسیا، الیاس سنجیو کے لکشمی کے دشرت نے قومی شاہراہ کے بازو ہماری زمین ہے کہکر 9/5 نمبر سے رجسٹریشن کروالیا۔ اسطرح 9/5 سروے نمبر کی زمین 63 قومی شاہراہ کے بازو نہیں ہے۔ کافی دور ہے لیکن یہ تین افراد اسماء￿ بیگم کی زمین اور اس کے بازو کی کچھ زمین پر قبضہ جمائے ہوئے 3 مکانات کی تعمیر کا آغاز کیا۔ اسماء￿ بیگم کو آرمور کمشنر شیلجا سرویر ایس راجو اور ایس ایچ او راگھا ویندرا سے انصاف نہ ملنے کی وجہ وہ آرمور کورٹ سے رجوع ہوئیں۔ اسطرح کورٹ میں یہ تعمیر کو روک لگانے کے احکامات جاری کئے۔ لیکن کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کیا گیا۔ اور عہدیداروں نے بھی اس ضمن میں کوئی اقدامات نہیں کئے۔ جس پر اسماء￿ بیگم نے پھر سے کورٹ میں اپیل کی۔ اسطرح کورٹ نے تمام ثبوت کو مدنظر رکھتے ہوئے کورٹ کے احکامات پر میونسپل کمشنر آرمور شیلجا، ریوینو سرویر ایس راجو، آرمور پولیس ایس ایچ او راگھا ویندرا، نے غیر قانونی تعمیر میں مدد کرنے کہ الزام میں کریمنل کیس درج کیا گیا۔ جس کی ایف آئی آر نمبر 250/2020 بنایا گیا۔ اس شکایت گزار نے انصاف کے لئے کورٹ کا سہارا لینے پر 3 عہدیداروں پر کیس درج کیا گیا۔ ان عہدیداروں پر کیس درج ہونے کی خبر عام ہوگئی۔ اور اس متعلق عوام میں یہ خبر موضوع بحث بن گئی۔ کیونکہ آرمور پرکٹ مامڈپلی میں اراضی کی قیمت آسمان چھورہی ہے۔ اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ایسے بہت سے لوگ ہونگے جنکی اراضیوں پر لوگ قابض ہوئے ہونگے۔ انہیں کورٹ سے ضرور انصاف ملے گا۔