آرٹیکل370کی منسوخی ، غلط تاویلات عوام کو قبول نہیں

   

سرینگر : کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے آج کہا کہ دہلی کے موجودہ سیاسی نظام نے جس طرح آئین ہند کے آرٹیکل 370 کو یک طرفہ طور پر ختم کیا ہے ، اُس کے خلاف ریاست جموں وکشمیر کے لوگ منظم طریقے سے اپنی جمہوری اور آئینی جنگ لڑتے رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ آج کے دن یہ بات سب کو معلوم ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سیاسی سطح پر سیول سوسائٹی یہ سمجھتی ہے کہ حکومت ہند نے یکطرفہ طور آرٹیکل370 کو منسوخ کر کے ایک بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے ،جس سے حکومت ہند کے لئے عوامی اعتماد کو بہت بڑی ٹھیس پہنچی ہے ۔اُن کے مطابق سوال یہ ہے کہ ریاست کا آئینی رشتہ عوامی اعتماد پر منحصر ہے اور اسی اعتماد کو نقصان پہنچانے کا کام کیا گیا ہے ۔ جتندر سنگھ اور اُسی کی طرح سوچنے والو ں کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ریاست کا آئینی رشتہ ،جو عوامی اعتماد پر قائم ہے ، اُسی کو کمزور کرنے کی ذمہ داری کو محسوس کیا جانا چاہئے ۔ کیا جمہوری تعلقات کو زور زبردستی سے استوار کیا جا سکتا ہے ؟دراصل مودی سرکا ر کے لئے کچھ بنیادی سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔ جتندر سنگھ کو سمجھنا چاہئے کہ ریاست اور مرکز کے درمیان جو آئینی رشتہ ہے ، وہ عوامی اعتماد سے ہی مضبوط بن سکتا ہے ۔ اس میں مرکز کو اپنی ذمہ داری محسوس کر کے عوامی اعتماد کوحاصل کرنا چاہئے ۔ مرکز کو یہ سمجھنا چاہئے کہ آئینی رشتے کی طاقت کا منبع عوامی اعتماد ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ مرکز کو یہ سمجھنا چاہئے کہ عوامی سطح پر مشاورت کا منبع ختم کر کے فیصلوں کو ٹھونسنے سے آئینی رشتہ کمزور ہوتا ہے اور جمہوری عمل کو نقصان پہنچتا ہے ، جس کی ذمہ داری مرکز کو ہی قبول کرنا ہوگی۔