آر ایس ایس مہم کا اثر : ملٹی نیشنل کمپنیوں میں مسلم ملازمین نشانہ

   

مذہبی تشخص پر ضرب لگانے کی کوششیں،مسلمانوں پر تبدیلیٔ مذہب کرانے کے الزامات

محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔14اپریل۔ملک میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیوں میں آر ایس ایس اپنی نظریاتی کمپنیوں کے ذریعہ جو مہم چلارہی تھی اس کے اثرات اب منظر عام پر آنے لگے ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے نوجوان جو کہ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ باشعور اور سمجھدار ہوتے ہیں ان کے ذہنوں کو جس طرح سے پراگندہ کیا گیا ہے اس کے نتیجہ میں اب ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے ۔ٹاٹا کنسلٹنسی سروس (ناسک) میں پیش آئے واقعہ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تبدیلی مذہب کے نام پر اب تک گلی کوچوں اور مدرسوں کے علاوہ تنظیموں کو نشانہ بنانے کے بعد ملٹی نیشنل کمپنی میں خدمات انجام دینے والے نوجوانوں کو جو اپنے مذہبی تشخص کے ساتھ ملازمت کر رہے ہیں انہیں نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ تبدیلی مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے علماء کو نشانہ بنائے جانے پر اختیار کی جانے والی خاموشی اور اس خاموشی کو مصلحت کا نام دیتے ہوئے اختیار کئے جانے والے موقف کے بعد اب ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ ٹی سی ایس کمپنی میں ملازمت کر رہے مسلم نوجوانوں پر تبدیلی مذہب کے الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں حراست میں لئے جانے کے بعد یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جانے لگی ہے آر ایس ایس کی محاذی تنظیموں کے احتجاج اور انہیں پرسکون کرنے کے لئے کی جانے والی کاروائی کے دوران مسلم ملازمین کے خلاف سختی کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم کروانے کی کوشش کئے جانے کا خدشہ ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والے مسلم ملازمین بھی ’’تبدیلی مذہب‘‘ کرنے لگے ہیں۔ آر ایس ایس منظم انداز میں اپنی محاذی تنظیموں کے ذریعہ معاشرہ کو جس انداز میں زہر آلود کر رہی ہے اس سلسلہ میں گذشتہ دنوں ایک رپورٹ منظر عام پر آئی ہے اور اس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ آر ایس ایس مجموعی اعتبار سے 2000 سے زائد ایسی تنظیمیں چلا رہی ہے جو سماج کے ہر طبقہ سے جڑی ہوئی ہے۔ کئی سال قبل ’روزنامہ سیاست‘ نے اس سلسلہ میں خبروں کی اشاعت کے ذریعہ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں آر ایس ایس کی سرگرمیوں کے متعلق انکشاف کیا تھا ۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں میں نوجوانوں کی صلاحیتوں اور ان کی مہارت کی بنیاد پر ملازمتیں حاصل ہوتی ہیں لیکن اگر اس طرح کی سرگرمیاں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں بھی مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جانے لگے تو ایسی صورت میں کوئی مقام ان کے لئے محفوظ نہیں رہے گا۔ مسلم نوجوان جو ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خدمات انجام دیتے ہیں ان میں بیشتر نوجوان دینی علوم سے واقف نہیں ہوتے لیکن کئی ایسے نوجوان بھی ہیں جو کہ اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کے علاوہ گھریلو ماحول کے سبب دینی تشخص کے ساتھ ان کمپنیوں میں خدمات انجام دیتے ہیں اور اپنی مذۃبی شناخت اور تشخص کے ساتھ خدمات انجام دینے والوں کو اب نفرت پھیلانے والی یہ طاقتیں بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے نشانہ بنانے لگی ہیں۔i/k/3