آر ایم پی ڈاکٹرس کو کورونا کے علاج کی اجازت نہیں

   

کورونا کی سنگینی کے پیش نظر حکومت کا فیصلہ، وزیر صحت ای راجندر کا بیان
حیدرآباد : حکومت نے رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹشنرس (آر ایم پی) کو کورونا کے مریضوں کے علاج سے روک دیا ہے ۔ وزیر صحت ای راجندر نے آر ایم پی ڈاکٹرس کو ہدایت دی کہ وہ کورونا کی علامتوں والے مریضوں کے علاج کے بجائے انہیں قریبی پرائمری ہیلت سنٹرس یا منڈل و ڈسٹرکٹ گورنمنٹ ہاسپٹلس سے رجوع کریں۔ انہوں نے کہا کہ بخار ، کھانسی ، حلق میں درد جیسی علامات رکھنے والے مریضوں کا علاج آر ایم پی کو نہیں کرنا چاہئے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ دیہی علاقوں اور شہر کی گنجان آبادی والے علاقوں میں آر ایم پی ڈاکٹرس کی بہتات ہے اور وہ ہر طرح کے مریض کے علاج کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت نے کورونا کی سنگینی کے پیش نظر آر ایم پی ڈاکٹرس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ علامات رکھنے والے مریضوں کو سرکاری دواخانوں سے رجوع کردیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں 50,000 سے زائد آر ایم پی ہیں جو خود کو ڈاکٹرس کی طرح علاج کرتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر دیہی اور قبائلی علاقوں میں سرگرم ہیں ۔ محکمہ صحت نے وضاحت کی ہے کہ کورونا مریضوں کا علاج آر ایم پی کی جانب سے کرنے کی اجازت نہیں ہے اور اس سلسلہ میں بعض آر ایم پی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ آر ایم پی سے علاج کی صورت میں نہ صرف ڈاکٹر بلکہ مریض کے افراد خاندان کورونا کا شکار ہوسکتے ہیں۔ کورونا کے علاج کے لئے ماہر ڈاکٹرس کی ضرورت پڑتی ہے اور علامات رکھنے والے افراد کو فوری طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں موت واقع ہوسکتی ہے ۔ ان حالات میں حکومت آر ایم پی کی جانب سے کورونا کے علاج پر پابندی عائد کردی ہیں۔ اسی دوران آر ایم پی ڈاکٹرس اسوسی ایشن نے کہا ہے کہ وہ عوام میں کورونا سے متعلق شعور بیداری کے لئے اہم رول ادا کریں گے۔