ٹی آر ایس ارکان راجیہ سبھا کی روانگی کے لیے خصوصی طیارے ، فرقہ پرست بی جے پی کی تائید پر عوام کا اظہار حیرت
حیدرآباد۔26جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ و آندھرا پردیش میں برسراقتدار سیاسی جماعتوں نے راجیہ سبھا میں بھاتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے پیش کئے گئے بل کی تائید کرتے ہوئے آر ٹی آئی میں کی جانے والی ترامیم کو منظوری فراہم کرنے میں اہم رول ادا کیا ۔تلنگانہ راشٹر سمیتی جو کہ سابق میں طلاق ثلاثہ مسئلہ پر بائیکاٹ کرتے ہوئے بل کی بالواسطہ تائید کی تھی نے گذشتہ یوم راجیہ سبھا میں آر ٹی آئی بل کو منظور کروانے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کی کھل کر مدد کی ہے اور اس کیلئے راجیہ سبھا کے دو ارکان کو خصوصی طیارہ سے دہلی روانہ کیا گیا جبکہ بل پر مباحث کے دوران پارلیمانی قائد تلنگانہ راشٹر سمیتی مسٹر کے کیشو راؤ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ان کی پارٹی آر ٹی آئی کمیشنرس کے اختیارات کی تخفیف اور قانون کو کمزور کرنے کی کوشش کی سختی سے مخالفت کرے گی اور راجیہ سبھا میں بل کو منظور ہونے نہیں دیا جائے گا لیکن گذشتہ یوم غیر متوقع طور پر تلنگانہ راشٹر سمیتی ‘ وائی ایس آر سی پی اور بیجو جنتادل نے مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے ترمیمی بل کی مکمل تائید کرتے ہوئے ملک بھر کے سیکولر عوام کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ریاست تلنگانہ میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے متعدد مرتبہ یہ اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی تائید نہیں کرے گی لیکن سابق میں بھی ٹی آر ایس نے بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے کئی اقدامات کی غیر مشروط تائید کی ہے جس میں کرنسی تنسیخ‘ جی ایس ٹی اور دیگر اقدامات شامل ہیں۔تلنگانہ راشٹر سمیتی کی جانب سے آر ٹی آئی ترمیمی بل کی تائید کے بعد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر تلنگانہ راشٹر سمیتی کے قائدین سے استفسار کیا جا رہاہے کہ آخرایسی کیا مجبوری تھی جس کے تحت بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی جانب سے پیش کئے گئے ترمیمی بل کی تائید کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔بتایاجاتاہے کہ تلنگانہ راشٹر سمیتی کے تمام 5ارکان راجیہ سبھا کو اس بات کی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ راجیہ سبھا میں آر ٹی آئی بل کی تائید کرتے ہوئے اسے منظور کروائیں۔ اچانک ملنے والی اس ہدایت کے سلسلہ میں کوئی بھی کچھ بھی کہنے سے قاصر ہے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آر ٹی آئی میں ترمیم کے لئے پیش کئے جانے والے بل کو تلنگانہ راشٹر سمیتی کی تائید اور آندھرا پردیش میں برسراقتدار وائی ایس آر سی پی کی تائید کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر دونوں سیاسی جماعتو ں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہاہے ا ورانتخابات کے دوران ان سیاسی جماعتوں کی تائید کرنے والی مذہبی و سیاسی جماعتوں سے قائدین سے استفسار کیا جانے لگا ہے کیا اسی مقصد کے تحت ان سیاسی جماعتوں کی تائید کی گئی تھی کہ یہ سیاسی جماعتیں مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں!تلنگانہ راشٹرسمیتی کی جانب سے آر ٹی آئی ترمیمی بل کو منظور کروانے کیلئے کی جانے والی مدد کے متعلق کوئی وضاحت نہیں کی جا رہی ہے لیکن رکن راجیہ سبھا وائی ایس آر سی پی مسٹر وجئے سائی ریڈی نے ہر بل کو سیلیکٹ کمیٹی کو روانہ کرنے کے مطالبہ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی جمہوری اصولوں کے مطابق کام کررہی ہے اور عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے اس بل کی تائید کی جا رہی ہے جبکہ سیاسی ماہرین کا کہناہے کہ وائی ایس آر سی پی ریاست آندھرا پردیش کیلئے خصوصی موقف حاصل کرنے کی کوشش کے تحت آر ٹی آئی بل کی تائید کی ہے۔