برقی شرحوں میں اضافہ کا امکان
حیدرآباد ۔ 13 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیاں 2020-21 میں برقی شرحوں میں اضافہ کے لیے تجاویز تیار کررہی ہیں ۔ وہ چیف منسٹر کی جانب سے شرحوں میں اضافہ کو منظوری دئیے جانے پر یہ تجاویز الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کے پاس داخل کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔ چیف منسٹر نے حال میں آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافہ کو منظوری دی اور توقع ہے کہ وہ 2020 میں برقی شرحوں میں اضافہ کے لیے منظوری دیں گے ۔ اگر چیف منسٹر برقی شرحوں میں اضافہ کو نا منظور کریں تو ڈسٹری بیوشن کمپنیاں ان کی سالانہ ریونیو ریکوائرینٹس رپورٹس داخل کریں گی ۔ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد سے گھریلو صارفین کے لیے برقی شرحوں میں ایک مرتبہ بھی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ تاہم ، تلنگانہ کے قیام کے بعد حکومت نے بعض زمروں کے لیے ٹیرف میں اضافہ کیا ۔ ایک اندازہ کے مطابق ڈسکامس کی آمدنی اور خرچ کے درمیان خسارہ آئندہ سال تک 11 ہزار کروڑ روپئے سے متجاوز ہوجائے گا ۔ مالیہ کے انٹرنل ریویو کے دوران ڈسکامس نے کہا کہ ان کی مالیاتی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ٹیرف میں مارجنل اضافہ کیا جانا چاہئے ۔ ایک یونٹ برقی کی سپلائی کی اوسط قیمت 6.20 روپئے سے تجاوز کر گئی ہے ۔ حکومت 1.45 روپئے فی یونٹ برقی فراہم کررہی ہے ۔ اسی شرحوں کو برقرار رکھنے سے ڈسکامس کو نقصان ہورہا ہے کیوں کہ صارفین کا یہ زمرہ جملہ ڈومیسٹک کنزیومرس کا 23 فیصد ہے ۔۔