کئی مقامات پر کشیدگی ۔ پولیس ، مظاہرین کو منتشر کرنا پڑا ۔ 32 مطالبات کی تکمیل کا مطالبہ
نظام آباد۔22 اپریل ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مطالبات کی تکمیل کے لیے آر ٹی سی ملازمین کی جانب سے شروع کی گئی ہڑتال کے باعث ریاست میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ کل رات نصف شب سے ہڑتال کا آغاز ہوا جس کے بعد مختلف ڈپوؤں پر ملازمین نے احتجاج کرتے ہوئے بسوں کی آمد و رفت روکنے کی کوشش کی۔ حکام نے مسافروں کو مشکلات سے بچانے کے لیے متبادل انتظامات کے تحت خانگی بسوں کے ساتھ بعض سرکاری بسیں بھی پولیس بندوبست میں چلانے کی کوشش کی، تاہم کئی مقامات پر کشیدگی پیدا ہوگئی اور پولیس کو مظاہرین کو منتشر کرنا پڑا، جبکہ ضلع نظام آباد کے بیشتر ڈپوؤں سے بسیں باہر نہیں نکل سکیں۔آر ٹی سی قائدین نے شکایت کی کہ نئی تقرریاں نہ ہونے کے باعث موجودہ ملازمین پر کام کا غیر معمولی بوجھ بڑھ گیا ہے۔ ضوابط کے مطابق ملازمین کو صرف 8 گھنٹے کام کرنا چاہیے، لیکن انہیں روزانہ 12 تا 18 گھنٹے تک خدمات انجام دینے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اضافی اوقات کار کے لیے خصوصی چھٹی بھی فراہم نہیں کی جا رہی۔ لانگ روٹ ڈرائیوروں نے الزام لگایا کہ کنڈکٹروں کی کمی کے باعث ان کے فرائض بھی ’’ٹمز‘‘ مشینوں کے ذریعے انہی سے انجام دلوائے جا رہے ہیں جس سے شدید ذہنی دباؤ پیدا ہو رہا ہے۔اس کے علاوہ پی آر سی، بقایا جات کی ادائیگی اور انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کی عدم تکمیل پر بھی 32 مطالبات کی عدم تکمیل پر ملازمین میں شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ مختلف یونینوں کی حمایت سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کا فیصلہ کیا، جبکہ حکومت کے ساتھ مذاکرات بھی بے نتیجہ ثابت ہوئے۔اگرچہ اہم روٹس پر پولیس بندوبست میں کچھ بسیں چلائی گئیں، تاہم مجموعی طور پر ٹرانسپورٹ نظام بری طرح متاثر ہوا۔ آر ٹی سی ایم ڈی ناگی ریڈی نے چار ماہ کے اندر مسائل حل کرنے کا یقین دلایا، لیکن ملازمین نے حکومتی تجاویز کو مسترد کر دیا۔ اس ہڑتال کے باعث نجی گاڑیوں کے مالکان نے موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کیا، جس سے عوام کو شدید مالی بوجھ برداشت کرنا پڑا۔ اعداد و شمار کے مطابق متحدہ نظام آباد ریجن کے چھ ڈپوؤں سے روزانہ 650 بسیں تقریباً 1.08 لاکھ مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرتی ہیں اور ادارے کو یومیہ تقریباً 1.30 کروڑ روپئے کی آمدنی حاصل ہوتی ہے، تاہم ہڑتال کے باعث یہ نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور بس اسٹانڈز پر مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔نظام آباد میں جاری آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال میں اے آئی ٹی یو سی کے ضلع جنرل سکریٹری وائی اومیانے شرکت کرتے ہوئے مزدوروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہڑتالی کارکنوں سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے مطالبات کی تائید کی اور تحریک کو جائز قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین اپنے حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کے مطالبات کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ او میا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ملازمین کے مسائل حل کرے اور ہڑتال کے خاتمہ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔