نہ ہوگا رائیگاں خون شہیدان وطن ہرگز
یہی سرخی بنے گی ایک دن عنوان آزادی
آزادی اورمجاہدین آزادی کی توہین
ایسا لگتا ہے کہ ملک میں اب ذہنی توازن کھوچکے افراد کو بھی ملک کی تاریخ اور آزادی پر تبصرے کرتے ہوئے تاریخ کو مسخ کرنے کے ایوارڈز دئے جا رہے ہیں۔ ایک اداکارہ کنگنا رناوت نے ایک انتہائی متنازعہ ریمارک کیا ہے کہ ملک کو آزادی در اصل 2014 میں ملی ہے ۔ ان کا اشارہ نریندر مودی حکومت کے قیام کی سمت تھا ۔ کنگنا نے یہ ریمارک کرتے ہوئے اپنی بیمار ذہنیت کا ثبوت دیا ہے اور اس نے ملک کی آزادی اور ہمارے ہزاروں بلکہ لاکھوں مجاہدین آزادی کی توہین و ہتک کی ہے ۔ یہ ملک کی ہتک بھی ہے ۔ اس کو غداری بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ ہندوستان نے اپنی آزادی کے سات دہوں میں جو ترقی کی ہے وہ ساری دنیا کیلئے مثالی ہے ۔ 1947 میں انگریزی سامراج کو ہندوستان چھوڑنے کیلئے جن لاکھوںمجاہدین آزادی نے خون بہایا تھا ان سب کی کنگنا رناوت نے توہین کی ہے اور ہتک کی ہے ۔ در اصل ملک کی آزادی اور مجاہدین آزادی پر تبصرہ کرتے ہوئے ہر ایک کو انتہائی احتیاط اور احترام اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ جن مجاہدین آزادی نے جیل کی صعوبتیں برداشت کیں ‘ جن مجاہدین آزادی نے اپنے گھر بار ‘ اپنے اہل و عیال اور زندگی کی آسائشوں کو ترک کرتے ہوئے انگریزوں کی غلامی کے خلاف جدوجہد کی ہے ان پر ادکار بھی تبصرے کرنے لگے ہیں جنہیں نہ ملک کی تاریخ سے کوئی واقفیت ہے اور نہ ہی مجاہدین آزادی کے جذبہ کو وہ سمجھ سکتے ہیں۔ کچھ گوشوں میںایسا لگتا ہے کہ حکومت کے تلوے چاٹنے کے مقابلے ہو رہے ہیں اور یہ لوگ حکومت کی چاپلوسی اور تلوے چاٹنے میں اپنے ساتھیوںسے پیچھے رہنے کو تیار نہیں ہیں۔ حکومت کی ستائش کرتے ہوئے اپنے لئے کچھ مراعات حاصل کرلینے کیلئے کچھ اور بھی طریقے اختیار کئے جاسکتے ہیں ۔ تاہم ملک کی آزادی پر بیہودہ تبصرے کرنے اور مجاہدین آزادی کی توہین و ہتک کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے ۔ ہندوستان نے آزادی کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے اور ہمارے مجاہدین آزادی ساری دنیا کیلئے ایک مثال رہے ہیں۔ اس طرح کے تبصرے کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جانی چاہئے ۔
آج ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی گئی ہے ۔ کچھ عرصہ سے گاندھی جی کے خلاف ریمارکس کئے جارہے ہیں۔ ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کی پوجا کی جا رہی ہے ۔ دوسرے مجاہدین آزادی کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اب تو ملک کی آزادی کو بھیک تک قرار دیدیا گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے تبصرے کر رہے ہیں انہیںایسا کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیںپہونچتا ۔ نہ انہوںنے ملک کی جدوجہد آزادی کو پڑھا ہے اور نہ ہی مجاہدین آزادی کی قربانیوںسے یہ لوگ واقف ہیں۔ یہ لوگ تو حکومت کے تلوے چاٹتے ہوئے اپنی دال روٹی چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ ملک کی تاریخ کو مسخ کرنے اور ملک کے وقار کو گھٹانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ایسے عناصر کی بیمار ذہنیت ملک کا امیج ساری دنیا میں متاثر کر رہی ہے ۔ کوئی مثبت پہلو انہیں نظر نہیں آتا اور صرف منفی اور نفرت انگیز تبصروںکے ذریعہ خبروں اور سرخیوں میںرہتے ہوئے ملک کا وقار مجروح کر رہے ہیں۔ خود ملک کی نریندر مودی حکومت بھی یہ دعوی نہیں کرسکتی کہ 2014 سے پہلے ہندوستان میں آزادی نہیں تھی ۔ یہ آزادی کے ثمرات ہی تھے جن کی بدولت نریندرمودی کو 2014 میں اس ملک کے عوام نے ووٹ کے ذریعہ وزارت عظمی سونپی تھی ۔ اوچھی ذہنیت اور بیہودہ ریمارکس کے ذریعہ ایسے ریمارکس کرنا کسی کو بھی ذیب نہیںدیتا اور ایسی حرکتوں اور تبصروںسے ہر کسی کو باز رہنے کی ضرورت ہے ۔
ملک کا وقار ہر ایک کیلئے اہمیت کا حامل ہے اور ملک کے کسی بھی شہری کو ملک کے وقار کو مجروح کرنے کی اجازت نہیںدی جاسکتی چاہے وہ کسی گوشے کیلئے کتنے ہی چہیتے کیوںنہ ہوں اور حکومت کے تلوے چاٹنے کے کتنے ہی ماہر کیوںنہ ہوں۔ اس طرح کے ریمارکس کے ذریعہ ان اقوام میںخاص طور پر ہماری رسوائی ہوتی ہے جو ہمارے خلاف ریشہ دوانیوںمیں ملوث رہتے ہیں۔ دنیا کے بیشتر ممالک میںآج بھی ہندوستان کی جدوجہد آزادی اور مجاہدین آزادی کا احترام کیا جاتا ہے اگر ہمارے ہی ملک میں ہماری آزادی اور مجاہدین آزادی کی توہین کی جاتی رہی تو پھر یہ انتہائی مذموم عمل ہے اور اس پر کارروائی ہونی چاہئے ۔
