آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ سے کانگریس کا اتحاد بقاء کی لڑائی ، جئے پانڈا کا بیان
گوہاٹی : آسام میں اسمبلی انتخابات کیلئے اب صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں، حکمراں بی جے پی نے کہا کہ آسام میں اس کا اصل مقابلہ بدرالدین اجمل کی پارٹی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ سے ہے۔ بی جے پی کا مقابلہ کانگریس سے نہیں ہے۔ بدرالدین اجمل ہمارے لئے ہمیشہ اصل حریف رہے ہیں۔ کانگریس ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ شمال مشرقی ریاست آسام کے کابینی وزیر جمنت بسوا شرما نے کہا کہ لوک سبھا رکن پارلیمنٹ بدرالدین اجمل آسام کے تمام تین مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ہمیشہ ہمارے لئے اہم رہے ہیں۔ آنے والے انتخابات میں بظاہر یہ مقابلہ بی جے پی اور کانگریس اتحاد کے درمیان ہورہا ہے لیکن علاقائی پارٹیوں کے ساتھ بھی ہمارا مقابلہ مضبوط ہے۔ علاقائی پارٹیاں عوام تک پوری طرح رسائی حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ عوام کے درمیان پہنچیں۔ بدرالدین اجمل کو ہم اس لئے اہمیت دے رہے ہیں کہ وہ ہماری تہذیب اور معاشرہ کیلئے خطرہ ہیں۔ اسی دوران بی جے پی کے قومی نائب صدر اور پارٹی کے آسام انچارج بائجین جئے پانڈا نے کہا کہ اس وقت کانگریس نے آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ سے اتحاد کیا ہے اور وہ خود کو اپنی شناخت کے بل پر ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کانگریس خود اپنی بقاء کیلئے یہ مقابلہ کررہی ہے۔ کانگریس پارٹی کے قائدین کو آسام بچاؤ کے بجائے کانگریس بچاؤ پر توجہ دینی چاہئے۔ آنجہانی ترون گوگوئی نے آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ اور بدرالدین اجمل کے نام کو ترک کردیا تھا اور انہیں فرقہ پرست قرار دیا تھا۔ اس لئے بی جے پی قوم پرستی کیلئے کھڑی ہے اور ہمارا یہ راستہ درست ہے۔ ہم اپنے درست راستے پر چل رہے ہیں۔ آسام میں 27 مارچ سے 3 مرحلوں کے دوران رائے دہی ہوگی اور 2 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ ریاست آسام میں امکان غالب ہیکہ حکمراں بی جے پی اور اپوزیشن کے درمیان سخت مقابلہ ہوگا۔ اس مرتبہ مرکز کے نئے شہریت قانون اور کانگریس آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے درمیان اتحاد جیسے مسائل پر سیاسی لڑائی ہوگی۔ سیاسی تجزیہ نگاروں نے اسمبلی انتخابات میں سہ رکنی مقابلہ قرار دیا۔ ان انتخابات میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے قائم کردہ نئی سیاسی پارٹیاں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ بی جے پی نے اپنی ساری توجہ بدرالدین اجمل کی پارٹی کی طرف کردی ہے۔ کئی مہینوں سے وہ مسلم پارٹی کو نشانہ بنارہی ہے۔