ج مسلمانوں کے خون کی کوئی قیمت نہیں ہے، ان کی جان کی
کوئی وقعت نہیں ہے، ان کی آبرو کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ان کی معیشت کا پرسان حال کوئی نہیں ہے، ان پر ظلم و زیادتی کا کوئی احساس نہیں ہے، کیونکہ دنیا کو آج مسلمانوں کے وجود سے نفرت ہے اور نفرت بھی اس قدر شدید ہے کہ وہ اس دنیا میں اسلام نام کی کوئی چیز دیکھنا اور سننا نہیں چاہتے۔ ان کو اسلام انسانی معاشرہ میں ایک ناسور نظر آرہا ہے اور وہ ہرصورت میں اس ناسور کو جسم انسانی سے نکال کر انسانی جسم کو پاک و صاف کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی میڈیا اور پوشیدہ دماغ نے مسلمانوں کو انسانی معاشرہ کے لئے نقصاندہ ثابت کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی اور مسلم حکمرانوں نے ان کی ان کاوشوں کو مصدقہ بنادیا۔ لہذا اب یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ماتم کس پر کریں، کس کو قصوروار قرار دیں اور کس سے منصفی چاہیں؟۔ لیکن دوسری طرف حالات ایسے ہیں، جو اسلام کی حقانیت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہی نظارے ہیں جو مسلمانوں کے جوش ایمان کے شاہد عدل ہیں۔ دنیا کو اسلام سے نفرت اس لئے نہیں کہ اسلام میں انسانیت کے خلاف کسی قسم کی تعلیمات ہیں، کیونکہ وہ بخوبی واقف ہے کہ اسلامی تعلیمات انسانیت کے مطابق و موافق ہیں۔ غیر مسلموں کو مسلمانوں سے نفرت اس لئے ہے کہ ان کے دین کی بنیادیں اسلام کی طرح مضبوط و مستحکم ستونوں پر قائم نہیں ہیں۔ ان کے مذہب کی بنیادیں صرف قصہ کہانیوں، غیر ضروری تاویلات اور باطل نظریات پر قائم ہیں۔ ان کے عقائد و نظریات کو بالخصوص موجودہ نئی نسل کی عقل قبول نہیں کرسکتی۔ ان کے فرسودہ خیالات، اوہام پرستی، لایعنی فلسفہ اور متعارض اقوال ونظریات کو جدید ذہن تسلیم نہیں کرسکتا۔ ان کی آزادی رائے، حریت فکر، نفسانی خواہشات کی تسکین اور انسانیت سوز تہذیب کے فروغ میں کوئی رکاوٹ اور سد راہ ہے تو وہ صرف اسلامی تہذیب ہے۔ مغربی دنیا ہو کہ برصغیر، عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے مذہبی شعار و مذہبی تعلیمات کو خیرباد کردیا، اپنے مذہبی اصول و قوانین سے منحرف ہو گئے اور دنیا طلبی میں مشغول ہو گئے۔ صرف دنیا میں مسلمان قوم ہی وہ واحد قوم ہے، جو دنیا کے طول و عرض میں کسی بھی زاویہ و گوشہ میں ہو، اسلام اور اس کی تہذیب کو تھامے ہوئے ہیں۔ بہت سے مسلمان باطل کے طوفان میں بہہ گئے، لیکن ہر جگہ اسلامی تہذیب کے علمبردار اور اسلامی تعلیمات سے آراستہ نفوس اسلام کے پرچم کو تھامے ہوئے نظر آتے ہیں، جو اپنے عمل و کردار سے اسلام کی حقیقی تصویر کو پیش کرتے ہیں، جس سے غلط تصویر کی خود بخود نفی ہو جاتی ہے۔
ہندوستان کے مختلف گوشوں میں فرقہ وارانہ فسادات ہو رہے ہیں اور منصوبہ بند طریقے پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور ان کی عزت و آبرو سے کھیلا جا رہا ہے، جب کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو دشمنوں سے جو نقصان ہوا ہے، مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے والوں سے کچھ کم نقصان نہیں ہوا۔ کوئی درندگی سے مسلمانوں کو قتل کر رہا ہے تو کوئی کھانے میں زہر دے کر مسلمانوں کو مار رہا ہے اور نتیجے میں صرف مسلمانوں کی موت ہے۔ مسلمانوں سے نفرت تو سبھی کو ہے، کوئی ان سے نفرت کا اظہار کر رہا ہے تو اس کے پس پردہ سیاسی اغراض ہیں، یعنی وہ اسلام دشمنی کے نام پر اپنا ووٹ بینک مضبوط کر رہا ہے اور کوئی مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرکے اعتدال پسند ہندوؤں اور مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کی فکر میں ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات سے ہر دو کو سیاسی فوائد حاصل ہوں گے اور نقصان صرف مسلمانوں کا ہوگا۔ایک طرف غیر قوم مسلمانوں کو مجروح کرنے کی فکر میں ہے، کیونکہ کسی کو زخم دینے سے فائدہ ہوگا اور کسی کو زخم پر مرہم لگانے سے فائدہ ہوگا، جب کہ دوسری طرف مسلمان خود باہم ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ گھروں میں میاں بیوی، ساس بہو اور دیورانی و جٹھانی کے جھگڑے ہیں۔ اسی طرح بھائی بہنوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم سے متعلق اختلافات ہیں، خاندانوں میں تکبر و مفاخرت کا ماحول ہے، مساجد میں کمیٹیوں کے جھگڑے ہیں۔ علاوہ ازیں مسلم سماج میں فروغی اختلافات کے جھگڑے ہیں اور ہر ایک خود کو حق اور فریق مخالف کو باطل قرار دینے میں مصروف ہے۔ ایک دوسرے پر کفر و شرک، بدعتی گمراہ، کافر، منافق اور مشرک کے فتوے چسپاں کر رہے ہیں۔ اسلامی تعلیمات سے عاری مقررین مسلمانوں کو مختلف خانوں میں باٹنے میں شیطان کے ممد و معاون بنے ہوئے ہیں۔ مستند مذہبی رہنما یا تو مرعوب ہیں یا بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ حق بات تو خوش اسلوبی اور مکمل احترام سے بیان کرنے کا ملکہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ نتیجہ میں باہمی نفرت و عداوت کی آبیاری ہورہی ہے اور اسلامی پیار و محبت کی فصل کو نقصان ہو رہا ہے۔
برصغیر کے مشہور اسکالر ہندوستان کے ایک عظیم محدث کی خدمت میں فجر کے وقت حاضر ہوئے۔ دیکھا کہ حضرت سر پکڑے ہوئے غمگین بیٹھے ہوئے ہیں۔ جو مکالمہ اور گفتگو ان کے درمیان ہوئی وہ بڑی معنی خیز اور قطع نظر مسلک و مکتب بڑی مفید ہے۔
میں نے پوچھا ’’مزاج کیسا ہے؟‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہاں! ٹھیک ہے میاں۔ مزاج کیا پوچھتے ہو، عمر ضائع کردی…‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’حضرت! آپ کی ساری عمر علم کی خدمت اور دین کی اشاعت میں گزری ہے۔ ہزاروں علماء آپ کے شاگرد ہیں، جو آپ سے مستفید ہوکر خدمت دین میں لگے ہوئے ہیں۔ آپ کی عمر ضائع ہوئی ہے تو کس کی عمر کام میں لگی؟‘‘۔ حضرت نے فرمایا ’’میں تم سے صحیح کہتا ہوں کہ اپنی عمر ضائع کردی‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ ’’حضرت! اصل بات کیا ہے؟‘‘۔ فرمایا ’’ہماری عمروں کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کاوشوں کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفی مسلک کی ترجیح قائم کردیں اور حضرت امام ابوحنیفہؒ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا!… اب غور کرتا ہوں کہ کس چیز میں عمر برباد کی!‘‘۔ پھر فرمایا ’’ارے میاں! اس بات کا کہ کونسا مسلک صحیح تھا اور کونسا خطا پر، اس کا راز تو کہیں حشر میں بھی نہیں کھلے گا اور نہ دنیا میں اس کا فیصلہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی قبر میں منکر نکیر پوچھیں گے کہ رفع یدین حق تھا یا ترک رفع یدین؟ (نماز میں) آمین زور سے کہنا حق تھا یا آہستہ کہنا حق تھا؟۔ برزخ میں بھی اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور قبر میں بھی یہ سوال نہیں ہوگا۔ روز محشر اللہ تعالی نہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کو رسوا کرے گا اور نہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو، نہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کو اور نہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کو… اور نہ میدان حشر میں کھڑا کرکے یہ معلوم کرے گا کہ امام ابو حنیفہ نے صحیح کہا تھا یا امام شافعی نے غلط کہا تھا، ایسا نہیں ہوگا۔ تو جس چیز کا نہ دنیا میں کہیں نکھرنا ہے، نہ برزخ میں، نہ محشر میں، اس کے پیچھے پڑکر ہم نے اپنی عمر ضائع کردی اور جو ’’صحیح اسلام‘‘ کی دعوت تھی، جو سب کے نزدیک مجمع علیہ اور وہ مسائل جو سبھی کے نزدیک متفقہ تھے اور دین کی جو ضروریات سبھی کے نزدیک اہم تھیں، جن کی دعوت انبیاء کرام لے کر آئے تھے، جن کی دعوت کو عام کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا، وہ منکرات جن کو مٹانے کی کوشش ہم پر فرض کی گئی تھی، آج اس کی دعوت ہی نہیں دی جا رہی ہے۔ یہ ضروریات دین تو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو رہی ہیں اور کیا اپنے اور کیا اغیار، سبھی دین کے چہرے کو مسخ کر رہے ہیں اور وہ منکرات جس کو مٹانے میں ہمیں لگے رہنا چاہئے تھا وہ پھیل رہے ہیں، گمراہی پھیل رہی ہے، الحاد آرہا ہے، شرک و بت پرستی چلی آرہی ہے، حلال و حرام کا امتیاز اٹھ رہا ہے، لیکن ہم لگے ہوئے ہیں ان فرعی و فروعی بحثوں میں!… اس لئے غمگین بیٹھا ہوں اور محسوس کر رہا ہوں کہ عمر ضائع کردی‘‘۔ (مفتی محمد شفیع)
