آلودہ پانی ‘ عوامی اموات اور وزیر کا رویہ

   

Ferty9 Clinic

جست کرتا ہوں تو لڑجاتی ہے منزل سے نظر
حائل راہ کوئی اور بھی دیوار سہی
مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں نلوںسے آلودہ پانی کی سربراہی کا مسئلہ سنگین ہوگیا ہے ۔ تاحال کہا جا رہا ہے کہ اس آلودہ پانی کے استعمال سے 10 افراد کی اموات ہوئی ہیں۔ تقریبا ایک سو افراد آلودہ پانی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں اورم ختلف دواخانوںمیںعلاج کیا جا رہا ہے ۔ یہ انتہائی سنگین مسئلہ ہے ۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں مدھیہ پردیش جیسی ریاست میں بی جے پی کی حکومت عوام کو پینے کیلئے صاف پانی تک فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے ۔ مدھیہ پردیش میں دو دہوں سے بی جے پی کی حکومت قائم ہے ۔ ریاست میں بی جے پی پر عوام کی جانب سے بھروسہ کیا جا رہا ہے تاہم اتنے طویل عرصہ سے ریاست میں برسر اقتدار رہنے کے باوجود بی جے پی ریاست میں بنیادی مسائل کو حل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی ہے اور عوام کو آلودہ پانی پینے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اموات ہو رہی ہیں۔ میونسپلٹی کے نلوں سے سربراہ کیا گیا پانی استعمال کرنے سے تاحال 10 افراد کی موت واقع ہوگئی ہے اور ایک سوسے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ یہ لوگ دواخانوںمیں زیر علاج ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے علاج و معالجہ پر بھی کوئی مدد نہیں کی جا رہی ہے اور کئی متاثرہ افراد علاج کروانے سے بھی معذور ہو رہے ہیں۔ یہ واقعہ بجائے خود انتہائی افسوسناک کہا جاسکتا ہے تاہم ریاستی وزیر شہری ترقیات و بی جے پی کے سرکردہ لیڈر کیلاش وجئے ورگھیہ کا رویہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک کہا جاسکتا ہے ۔ میڈیا نے جب کیلاش وجئے ورگھیہ سے اس معاملہ کے تعلق سے سوال کیا اور پوچھا کہ اس کی ذمہ داری سینئر قائدین پر کیوں عائد نہیں ہوتی تو وہ آپے سے باہر ہوگئے اور ایسی زبان اور الفاظ کا استعمال کیا جو ایک ریاستی وزیر کو ذیب نہیں دیتا ۔ کیلاش وجئے ورگھیہ ویسے تو پہلے ہی سے اشتعال انگیز بیان بازیوں اور بے تکے تبصروں کیلئے جانے جاتے ہیں لیکن ان کے اپنے شہر میں عوام کی اس طرح اموات پر ان کا جو رویہ اور ان کے جو الفاظ تھے وہ انتہائی مذموم کہے جاسکتے ہیںحالانکہ انہوں نے تنازعہ پیدا ہونے کے بعد ان الفاظ کے استعمال پر افسوس کا اظہار بھی کیا ہے ۔
جس طرح کی زبان اور لہجہ کا انہوں نے استعمال کیا ہے اس سے ان کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے اور یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ عوامی مشکلات حد تو یہ ہے کہ عوامی اموات پر بھی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہ کسی سوال کو خاطر میں لانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ کسی کے سامنے خود کو جوابدہ محسوس نہیں کرتے اور جو چاہے جس طرح کے چاہے ریمارکس کرسکتے ہیں اور کسی بھی طرح کی زبان اور الفاظ کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ ان کا یہ رویہ قابل مذمت ہے ۔ اندور وہ شہر ہے جسے ہندوستان کے کلین شہروں میںشمار کیا جاتا ہے اور صفائی کے معاملے میں اسے کئی ایوارڈز بھی حاصل ہوچکے ہیں۔ وہ دوسروں کیلئے مثال بھی قرار دیا جاتا رہا ہے تاہم اسی شہر میں اگر عوام کو آلودہ پانی پینے کو ملتا ہے اورا س کی وجہ سے دس افراد کی جانیں تلف ہوجاتی ہیں تو اس کی جوابدہی متعلقہ عہدیداروں پر ہی نہیں بلکہ عوامی نمائندوں اور وزراء پر بھی عائد ہوتی ہے ۔ اس سارے معاملہ میں مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کی جانب سے محکمہ آبرسانی کے کچھ جونئیر عہدیداروںکو ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم کسی سینئر عوامی نمائندے یا متعلقہ وزیر سے کوئی جواب طلب نہیں کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ان پر ذمہ داری عائد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ اسی تعلق سے سوال کرنے پر وجئے ورگھیہ آپے سے باہر ہوگئے تھے اور انہوں نے انتہائی مذموم الفاظ کا استعمال کیا تھا ۔ عوامی زندگی میں عوامی مسائل پر اس طرح کے الفاظ کا استعمال انتہائی شرمناک اور قابل مذمت ہے ۔
جہاں تک آلودہ پانی کی سربراہی کا مسئلہ ہے تو اس پر مدھیہ پردیش کی حکومت کو فوری حرکت میں آنے کی ضرورت ہے ۔ عوام کو اگر حکومت کی جانب سے پینے کیلئے صاف پانی تک بھی فراہم نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی حکومت کو ناکام ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ ریاست کے چیف منسٹر اور بی جے پی کی اعلی قیادت کو کیلاش وجئے ورگھیہ پر لگام کسنی چاہئے ۔ ان کی سرزنش کی جانی چاہئے ۔ انہوںنے تاحال صرف افسوس کا اظہار کیا ہے اور معذرت خواہی نہیں کی ہے ۔ انہیں اپنی نازیبا زبان اور آلودہ پانی کی سربراہی پر اپنے حلقہ ‘ اندور شہر اور مدھیہ پردیش کے عوام سے غیر مشروط معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔