آلیر فرضی انکاؤنٹر کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے مجلس کا مطالبہ

,

   

متاثرین کو 5 لاکھ معاوضہ دیا جائے،اسمبلی میں ٹی آر ایس ارکان سے اکبر اویسی کی لفظی جھڑپ

حیدرآباد: تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں مجلس کی جانب سے آلیر انکاونٹر میں 5 مسلم نوجوانوں کی ہلاکت کے مسئلہ پر احتجاج کیا گیا۔ مجلس کے فلورلیڈر اکبر اویسی نے انکاونٹر کے خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کو قومی انسانی حقوق کمیشن کے احکامات کے مطابق فی کس 5 لاکھ روپئے معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے انکاؤنٹر کی تحقیقات کے لئے قائم کردہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم SIT رپورٹ ایوان میں پیش کرنے کی مانگ کی ۔ اس مسئلہ پر حکومت کی جانب سے غیر واضح جواب دیئے جانے پر مجلسی ارکان نے احتجاج کیا اور اس مرحلہ پر ٹی آر ایس ارکان کے ساتھ لفظی تکرار ہوئی ۔ اکبر اویسی نے کہا کہ 7 اپریل 2019 ء کو آلیر میں ہتھکڑی میں حیدرآباد منتقل کئے جانے والے نوجوانوں وقار احمد ، سید امجد ، محمد ذاکر ، اظہر خاں اور محمد حنیف کو پولیس نے گولی ماردی ۔ انہوں نے کہا کہ 13 اپریل کو حکومت نے سینئر عہدیدار سندیپ شنڈالیا کی قیادت میں 6 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی لیکن آج تک اس کی رپورٹ برسر عام نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن الزامات کے تحت ان نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور جس کیس میں وہ عدالت میں پیش کئے جارہے تھے ، ان میں تمام باعزت بری ہوچکے ہیں ۔ بے قصور کی جان لینے کا پولیس کو کوئی اختیار نہیں ہے اور سزا کا فیصلہ عدالت کا کام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج تک قصوروار پولیس عہدیدار اور ملازمین برسر خدمت ہیں اور انہیں کوئی سزا نہیں دی گئی ۔ 29 جولائی کو قومی انسانی حقوق کمیشن سے عثمان شہید ایڈوکیٹ رجوع ہوئے اور متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کی جس پر کمیشن نے فی کس 5 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے حکومت کو ہدایت دی۔ اکبر اویسی نے کہا کہ متاثرہ خاندان انصاف کے منتظر ہیں۔ حکومت کو ایس آئی ٹی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرتے ہوئے خاطی پولیس والوں کو معطل کر کے جیل بھیجنا چاہئے ۔ وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ اس معاملہ کو نوٹ کرلیا گیا ۔ اس جواب سے غیر مطمئن مجلسی فلور لیڈر نے اسپیکر سے شکایت کی کہ زیرو اوور میں پیش کردہ مسائل کا حکومت کی جانب سے تحریری جواب نہیں دیا جارہا ہے ۔ حالانکہ بزنس اڈوائزری کمیٹی میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کی جانب سے حکومت اور وزراء کو ہدایت دی جائے کہ زیرو اوور کے مسائل کا تحریری جواب دیں ۔ ٹی آر ایس ارکان کی مداخلت پر اکبر اویسی نے سوال کیا کہ آیا مسلمان کی جان اور خون کی کوئی اہمیت نہیں ہے ؟ آخر متاثرہ خاندانوں کو انصاف کب ملے گا۔ وزیر امور مقننہ پرشانت ریڈی نے تیقن دیا کہ اس مسئلہ کا تحریری جواب دیا جائے گا۔