آندھراپردیش میں دو ایس پی معطل اور دو اضلاع کے ایس پی کا تبادلہ

   

12 ماتحت پولیس عہدیداروں کی معطلی ، تشدد کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم ، الیکشن کمیشن کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 17۔ مئی (سیاست نیوز) الیکشن کمیشن نے آندھرا پردیش میں رائے دہی کے بعد پیش آئے پرتشدد واقعات پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کئی عہدیداروں کے تبادلہ اور معطلی کے احکامات جاری کئے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے پرتشدد واقعات کی تحقیقات کیلئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی جو اندرون دو یوم کمیشن کو رپورٹ پیش کرے گی ۔ چیف سکریٹری آندھرا پردیش جواہر ریڈی اور ڈائرکٹر جنرل پولیس ہریش کمار گپتا الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہوئے ۔ چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار اور الیکشن کمشنرس گیانیش کمار اور سکھبیر سنگھ سندھو نے دونوں عہدیداروں کی سماعت کی اور تشدد کو روکنے میں ناکامی پر برہمی کا اظہار کیا ۔ کمیشن نے عہدیداروں سے سوال کیا کہ تشدد پر قابو پانے اپنی ذمہ داری کی تکمیل کا احساس کیوں نہیں ہوا؟ الیکشن کمیشن نے سمن جاری کرکے چیف سکریٹری اور ڈی جی پی کو نئی دہلی طلب کیا تھا ۔ کمیشن نے چیف سکریٹری اور ڈائرکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ تشدد پر فوری قابو پائیں اور تمام اضلاع کے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو احتیاطی تدابیر کی ہدایت دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہوں۔ الیکشن کمیشن نے خاطیوں کے خلاف مقررہ مدت میں چارج شیٹ کی تکمیل کی ہدایت دی اور کہا کہ رائے شماری کے بعد بھی احتیاطی تدابیر برقرار رکھی جائیں۔ کمیشن نے ضلع کلکٹر پلناڈو کے تبادلہ اور ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کو منظوری دی۔ پلناڈو اور اننت پور اضلاع کے ایس پی کو معطل کرنے اور محکمہ جاتی تحقیقات کی ہدایت دی گئی ۔ تروپتی کے ایس پی کا تبادلہ کرنے اور ان کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات کی ہدایت دی گئی ۔ الیکشن کمیشن نے تشدد سے متاثرہ تین اضلاع پلناڈو ، اننت پور اور تروپتی کے 12 پولیس عہدیداروں کی معطلی کو منظوری دی ہے اور تشدد روکنے میں ناکامی پر ان کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کو ہدایت دی گئی کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے جو ہر معاملہ کی انفرادی جانچ کرتے ہوئے کمیشن کو دو دن میں رپورٹ پیش کریں۔ خاطیوں کے خلاف درج ایف آئی آر کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو پیش کی جائیں۔ الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو ہدایت دی ہے کہ آندھراپردیش میں رائے شماری کے 15 دن بعد تک مرکز کی نیم فوجی فورسس کی 25 کمپنیاں آندھراپردیش میں برقرار رکھی جائیں تاکہ نتائج کے اعلان کے بعد کسی بھی تشدد پر قابو پایا جاسکے۔ واضح رہے کہ 13 مئی کو رائے دہی کی تکمیل کے ساتھ ہی آندھراپردیش کے تین اضلاع میں تشدد پھوٹ پڑا جس میں سرکاری اور خانگی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ الیکشن کمیشن نے ان واقعات کا سختی سے نوٹ لیا ہے ۔ 1