آندھرا میں دلہن اسکیم بند

   

حیدرآباد۔23۔جون(سیاست نیوز) مسلم لڑکیوں کی شادی کیلئے فراہم کی جانے والی 50ہزار روپئے کی فراہمی کیلئے حکومت آندھراپردیش کے پاس بجٹ نہیں ہے۔ حکومت آندھراپردیش نے تقسیم ریاست کے بعد اقلیتی طبقہ کے لئے مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے شروع کی گئی اسکیم ’’دلہن‘‘ کو بند کردیا ہے۔تقسیم ریاست کے بعد آندھرا پردیش میں اقتدار حاصل کرتے ہوئے اس وقت کے چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے مسلم لڑکیوں کی شادی کے لئے 50ہزار کی امداد کی اجرائی کی اسکیم شروع کی تھی جو کہ سال 2014ّّْسے 2019 تک جاری رہی لیکن آج وائی ایس آر کانگریس حکومت کی جانب سے آندھراپردیش ہائی کورٹ میں داخل کی گئی درخواست کے جواب میں حکومت نے عدالت کو اس بات سے واقف کروایا کہ حکومت آندھراپردیش مالیہ نہ ہونے کے سبب اس اسکیم کو بند کرچکی ہے۔چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اقتدار حاصل کرنے سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران اس بات کا وعدہ کیا تھا ریاستی حکومت ’’دلہن‘‘ اسکیم میں فراہم کی جانے والی رقم کو 50ہزار سے بڑھا کرایک لاکھ کردیا جائے گا ۔اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس وعدہ کی عدم تکمیل پر استفادہ کنندگان نے عدالت سے رجو ع ہوتے ہوئے اس بات کی شکایت کی تھی کہ ریاستی حکومت اسکیم کے تحت اعلان کے مطابق رقم میں اضافہ تو نہیں کی لیکن اسکیم میں دیئے جانے والے 50ہزار کی رقم بھی جاری نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے درخواست گذاروں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔عدالت نے درخواست گذار کی شکایت کی سماعت کے بعد حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی جس پر حکومت آندھراپردیش نے آج عدالت میں جوابی حلف نامہ داخل کرتے ہوئے عدالت کو اس بات سے واقف کروایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس اسکیم کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ ریاستی حکومت کے پاس اس اسکیم پر عمل آوری کے لئے مالیہ کی قلت ہے ۔حکومت کے اس جوابی حلف نامہ اور اسکیم کو بند کردیئے جانے کے فیصلہ سے ریاست آندھراپردیش کے مسلم قائدین ‘ تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داروں کے علاوہ عوام کی جانب سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ اس اسکیم کو بند کرنے سے غریب عوام کا نقصان ہوگا۔م