سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی، بی ایڈ امیدواروں کی اہلیت پر اعتراض
حیدرآباد۔/21 فروری، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے جگن موہن ریڈی حکومت کی جانب سے ایس جی ٹی جائیدادوں پر تقررات کیلئے جاری کردہ ڈی ایس سی نوٹیفکیشن پر مشروط حکم التواء جاری کردیا ہے۔ عدالت نے ایس جی ٹی تقررات کا عمل جاری رکھنے کی اجازت دی تاہم بی ایڈ امیدواروں کو اجازت دینے پر حکم التواء جاری کیا گیا۔ ایس جی ٹی یعنی سیکنڈری گریڈ ٹیچرس کی جائیدادوں پر تقررات کیلئے بی ایڈ امیدواروں کو اہل قرار دینے کی ہائی کورٹ نے مخالفت کرتے ہوئے حکم التواء جاری کردیا۔ ایڈوکیٹ جنرل سری رام نے ہائی کورٹ کو تیقن دیا کہ ایس جی ٹی جائیدادوں پر تقررات کیلئے بی ایڈ امیدواروں کو اجازت نہیں دی جائے گی تاہم ہائی کورٹ نے حکم التواء جاری کردیا۔ ایس جی ٹی امیدواروں نے نوٹیفکیشن کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بی ایڈ امیدواروں کو درخواست داخل کرنے کیلئے اہل قرار دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس معاملہ کی کل سماعت کرتے ہوئے آج فیصلہ سنانے کا تیقن دیا تھا۔ ہائی کورٹ نے حکومت کے نوٹیفکیشن کو غیر قانونی قرار دیا کیونکہ سپریم کورٹ نے ایس جی ٹی کیلئے بی ایڈ امیدواروں کی اہلیت کی مخالفت کی تھی۔ امیدواروں کیلئے ہال ٹکٹس کی اجرائی کے آغاز کے باوجود ہائی کورٹ نے حکم التواء جاری کردیا۔چیف جسٹس دھیرج سنگھ ٹھاکر اور جسٹس رگھونندن راؤ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے ایس جی ٹی امیدواروں کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گذاروں کی جانب سے مشہور ایڈوکیٹ جے پروین کمار نے پیروی کی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ بی ایڈ امیدواروں کو اجازت دینے سے لاکھوں ڈی ایڈ امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ ایس جی ٹی جائیدادوں کیلئے بی ایڈ امیدواروں کو اجازت نہ دی جائے اور اس سلسلہ میں حکومت کے احکامات پر روک لگادی۔ عدالت نے کہا کہ اگر حکومت کو تقررات عمل میں لانے ہیں تو سپریم کورٹ کے احکامات کی پابندی کرنی ہوگی۔ عدالت نے مقدمہ کی آئندہ سماعت 8 ہفتے بعد مقرر کی ہے۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ سے تقریباً 6 لاکھ سے زائد ایس جی ٹی امیدواروں کو راحت ملی ہے۔1