آن لائن ادویات فراہمی کے نام پر سائبر دھوکہ باز سرگرم

   

کروڑہا روپیوں کا نقصان ، آکسیجن سیلنڈرس کی فراہمی کے باوجود قلت کا سامنا
حیدرآباد۔ ملک بھر میں کورونا وائرس کی دہشت نے عوام کو مشکلات میں مبتلاء کیا ہوا ہے اور جن خاندانو ںمیں کورونا وائرس کے متاثرین موجود ہیں اور دواخانوں میں شریک ہیں وہ اپنی پریشانیوں میں ہیں لیکن سائبر دھوکہ بازوں کی سرگرمیوں میں کورونا وائرس کے مریضوں کی طرح اضافہ ہونے لگا ہے اور وہ ضرورت مند شہریوں اور مریضوں کے رشتہ داروں کو ٹھگ رہے ہیں۔ ریمڈی سیور‘ کووی فور‘ ٹوسلی زوماب نامی انجکشن اور اس کے علاوہ آکسیجن سیلنڈرس اور آکسیجن کنسرٹریٹر اور آکسیجن سیلنڈر پر استعمال کیا جانے والا فلو میٹر تک آن لائن فروخت کیا جا رہاہے اور ان اشیاء کی ضرورت اور قلت کو دیکھتے ہوئے آن لائن آرڈر کی کوشش کرنے والوں کو دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں فابی فلو نامی بخار کی گولیوں کی بھی قلت ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور جو لوگ آن لائن ان ادویات اور کورونا وائرس سے متعلق اشیاء کی تلاش کر رہے ہیں انہیں دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اس سلسلہ میں متعدد شکایات موصول ہونے لگی ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ ریاست تلنگانہ ہی نہیں بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی سائبر دھوکہ دہی میں ملوث افراد سرگرم ہیں اور ان کے علاوہ آن لائن چندہ وصولی اور این جوی اوز کے نام پر کروڑہا روپئے کی وصولی کے اسکامس جاری ہیں۔ شہر کے کارپوریٹ دواخانوں میں شریک مریضوں کے لئے جن ادویات کی ضرورت محسوس ہورہی ہے مریض کے رشتہ دار ان ادویات کو گوگل پر یا آن لائن خریدنے کی کوشش کررہے ہیں اور سائبر دھوکہ بازوں کی جانب سے پیشگی رقم وصول کرنے کے بعد بک کروائی گئی اشیاء روانہ کرنے کے سلسلہ میں کوئی رابطہ نہیں رکھا جا رہاہے۔ اسی طرح جو لوگ آکسیجن سیلنڈرس خریدنے کی کوشش کررہے ہیں ان کو بھی پڑوسی ریاستوں کے علاوہ دیگر ریاستوں سے سائبر دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں بعض تنظیموں کی جانب سے شہریوں کی سہولت اور مریضوں کو مفت فراہمی کے لئے آکسیجن سیلنڈرس کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود قلت کو دیکھتے جو لوگ آکسیجن خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں یا آکسیجن کنسرٹریٹر خرید رہے ہیں انہیں بھی سائبر دھوکہ دہی کا سامنا کر نا پڑرہا ہے۔ سائبر کرائم کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں متعدد شکایات موصول ہونے لگی ہیں اور سائبر کرائم کی جانب سے مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔