خانگی اسکولس ایپ متعارف ، سرکاری اسکولس کے معیار پر سوالیہ نشان
حیدرآباد۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کیلئے ریاست میں کئے جانے والے اقدامات کے باوجودطلبہ کی تعلیم کے سلسلہ میں اسکول انتظامیہ خواہ وہ سرکای ہوں یا خانگی تمام کی حالت غیر ہوتی جا رہی ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت نے آن لائن ‘ڈیجیٹل تعلیم کا نظام متعارف کروایا ہے اور طلبہ کو اس ذریعہ تعلیم کو اختیار کرنے کی تاکید کی جا رہی ہے لیکن طلبہ میں اس نظام تعلیم کے متعلق دلچسپی نہیں دیکھی جا رہی ہے اور نہ ہی اس نظام تعلیم کو اختیار کرنے کی سمت اساتذہ مائل نظر آرہے ہیں۔ آن لائن تعلیم کے دورمیں کئی منفرد ایپلیکیشن متعارف کروائے جانے لگے ہیں مگر ان تمام ایپلیکشن کے علاوہ اسکولوں کی جانب سے اپنے ایپ پر کام کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ سرکردہ خانگی اسکولوں کی جانب سے معیاری ایپ تیار کرتے ہوئے مکمل نصاب ان ایپ کے ذریعہ طلبہ تک پہنچانے کے اقدامات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔تعلیمی سال کے دوران خانگی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتب کے سلسلہ میں خانگی اسکولوں کے انتظامیہ کا کہناہے کہ جب تک طلبہ کو تعلیمی نصاب حاصل نہیں ہوگا وہ کس طرح سے تعلیم کے حصول کو یقینی بناسکتے ہیں!
سرکاری اسکولوں میں حکومت کی جانب سے کتب کی تقسیم کے عمل کو مکمل کرلئے جانے کا دعوی کیا جا رہاہے او رکہا جا رہاہے کہ طلبہ کو کتب تو حوالہ کئے جاچکے ہیں لیکن ان کتب کے ذریعہ اگر انہیں از خود پڑھائی کیلئے مجبور کیا جائے گا تو انہیں سمجھنے میں کئی دشواریوں کا سامنا ہوگا اور ان دشواریوں سے نمٹنے میں انہیں مشکلات پیش آنے لگی ہیں۔خانگی اسکولو ںمیں جس طرح سے آن لائن ٹسٹ منعقد کئے جا رہے ہیں اس طرح سے سرکاری اسکولوں میں ٹسٹ کے انعقاد کا کوئی راستہ نہیں ہے جس کے ذریعہ طلبہ کے معیار تعلیم کی جانچ کی جاسکے مگر اس کے باوجود بعض اسکولو ںمیں طلبہ اپنے شبہات کے ازالہ کے لئے اپنے اساتذہ سے رابطہ قائم کر رہے ہیں جن کی بنیاد پر ان کے معیار کی جانچ ہوپا رہی ہے لیکن تمام طلبہ کی جانب سے ایسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہاہے جو کہ اساتذہ کو مشکلات میں مبتلاء کئے ہوئے ہے۔ شہر حیدرآباد کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کا کہناہے کہ وہ طلبہ کی تعلیم سے مطمئن نہیں ہیں تو ایسے میں اضلاع کے طلبہ کی کیا صورتحال ہوگی اس کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ محکمہ تعلیم کے عہدیدارو ںکا کہناہے کہ جلد ہی سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے معیار کی جانچ کی جائے گی۔