آٹو کرایوں میں 12 سال بعد اضافہ کرنے کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے سفارش کی

   

اقل ترین کرایہ 30 روپئے فی کیلو میٹر 14 روپئے، رات کے اوقات میں عام کرایہ سے 50 فیصد اضافہ کی تجویز
حیدرآباد ۔ 5 ستمبر (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ بالخصوص گریٹر حیدرآباد کے شہریوں اور لاکھوں آٹو ڈرائیورس کیلئے ایم اہم خبر سامنے آئی ہے۔ ریاست میں گزشتہ 12 سال سے آٹو کرایوں میں کوئی تبدیلی نہ ہونے اور ایندھن، انشورنس اور دیکھ بھال کے اخراجات میں سنسنی خیز اضافہ کے مدنظر اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل ایک خصوصی کمیٹی نے حکومت کو آٹو کرایوں میں اضافہ کی سفارش کردی ہے۔ ٹرانسپورٹ کمشنر ڈاکٹر کے ایلمبرتی نے کمیٹی کی جانب سے تیار کردہ یہ جامع تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کردی ہے اور اب صرف ریاستی حکومت کی منظوری ملنے کے بعد آٹو کرایوں میں نظرثانی کے سرکاری احکامات جاری کئے جائیں گے۔ کمیٹی کی نئی تجویز کے مطابق اب شروعاتی 1.6 کیلو میٹر کیلئے 30 روپئے ہوگا جبکہ اس کے بعد ہر ایک کیلو میٹر کیلئے 14 روپئے وصول کئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انتظار کا وقت 75 پیسے فی منٹ اور ان کے اوقات میں عام کرایہ پر 50 فیصد اضافی رقم وصول کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ واضح رہیکہ تلنگانہ اسٹیٹ آٹو اینڈ ایپ سبسیڈ یونین (IKASU) کی جانب سے 14 مطالبات کو لیکر 7 اگست کو دی گئی غیرمعینہ مدت کی ہڑتال کی نوٹس کے بعد 23 اگست کو عہدیدار اور یونین کے نمائندوں کے درمیان ہوئی میٹنگ کے نتیجہ میں ہڑتال ملتوی کی گئی تھی۔ اس کے بعد ڈی ٹی سی سریش ریڈی اور ایم وی آئی سرینواس پر مشتمل اعلیٰ کمیٹی نے کیرالا، دہلی، کرناٹک (بنگلورو) اور مہاراشٹرا (ممبئی) کے آٹو کرایوں کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور حیدرآباد کے موجودہ مالیاتی ماحول کو دیکھ کر یہ رپورٹ تیار کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ گزشتہ 12 برسوں سے کرایوں میں کوئی نظرثانی نہیں ہوئی ہے جبکہ ایک آٹو کی خرید قیمت 2.55 لاکھ روپئے، 70 فیصد بینک لون، ڈرائیور کی ماہانہ آمدنی 25 ہزار روپئے اور فی آمدنی کیلو میٹر دیکھ بھال کا خرچہ 13.53 تک پہنچ چکا ہے جس کے پیش نظر ڈرائیورس کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کیلئے کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہوچکا ہے۔2