آگرہ :اتر پردیش کے شہر آگرہ میں آج کرنی سینا اور دیگر راجپوت تنظیموں کی جانب سے رانا سانگا کی یومِ پیدائش کے موقع پر ’رکت سوابھیمان مہا سمیلن‘ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام آگرہ کے کْبیر پور علاقے میں گڑھی رامی کے مقام پر منعقد کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر شہر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔پولیس نے شہر بھر میں 4000 اہلکار تعینات کیے جبکہ پی اے سی کی 9 کمپنیاں بھی الرٹ پر رکھی گئی تھیں۔ ڈرون کیمروں کے ذریعے مسلسل نگرانی کی گئی۔ شہر کے 800 مقامات پر بیریئرز لگائے گئے اور کئی مقامات پر چیک پوسٹس بھی قائم کئے گئے۔یہ اجلاس خاص طور پر سماجوادی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن رام جی لال سمن کے خلاف احتجاج کے طور پر منعقد کیا گیا اور ان کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ گزشتہ مہینے رام جی لال سمن نے پارلیمنٹ میں رانا سانگا سے متعلق بیان دیا تھا جس کے بعد 26 مارچ کو کرنی سینا کے کارکنوں نے آگرہ میں شدید مظاہرہ کیا تھا۔اس دوران بڑی تعداد میں مظاہرین نے رام جی لال سمن کے سنجے پلیس واقع رہائش گاہ پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی جس کے بعد پولیس سے ان کی جھڑپ بھی ہوئی۔ اس جھڑپ میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ رام جی لال سمن کے گھر پر ممکنہ خطرات کے پیش نظر وہاں تین سطحی سکیورٹی فراہم کی گئی تھی۔ دوسری جانب سماجوادی پارٹی نے کرنی سینا کے خلاف محاذ سنبھال لیا ہے۔پارٹی کارکن سمن کے گھر پر جمع ہو ئے۔ اس کے علاوہ پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو بھی 19 اپریل کو آگرہ پہنچ کر رام جی لال سمن سے ملاقات کریں گے۔اکھلیش یادو نے اس حملے کو پی ڈی اے کے رکن پارلیمان پر حملہ قرار دیا تھا جس کا مطلب ہے پسماندہ، دلت اور اقلیتوں پر حملہ۔ ان کے اس بیان نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیا ہے اور آنے والے دنوں میں آگرہ میں سیاست اور سکیورٹی دونوں مزید گرم ہو سکتی ہیں اور احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔