اب دیکھئے کیا میری محبت کا ہو انجام
خود اپنے ہی دشمن سے مِلا آپ کی خاطر
ایران میں ابراہیم رئیسی نے ملک کی صدارت سنبھال لی ہے ۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد انہیںحلف لینے کا انتظار تھا اور جمعرات کو رئیسی نے ایرانی صدر کی حیثیت سے حلف لے لیا ہے ۔ انہوں نے یہ ذمہ داری ایک ایسے وقت میں سنبھالی ہے جب ملک کو کئی چیلنجس اور مسائل کا سامنا ہے ۔ عالمی سطح پر مخالفتوں میں گھرے ہوئے امریکہ کو خاص طور پر نیوکلئیر مسئلہ پر تحدیدات کی وجہ سے کئی مسائل درپیش ہیں۔ امریکہ میں سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نیوکلئیر معاہدہ سے دستبرداری اور پھر تحدیدات کو مزید سخت کردئے جانے کے نتیجہ میں ایران کے مسائل میںاضافہ ہوا ہے ۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ پانچ عالمی طاقتوں کے ساتھ طئے پائے معاہدے پر من و عن عمل آوری کر رہا ہے اس کے باوجود اس کے خلاف جو تحدیدات عائد کی گئی ہیں وہ زیادتی کے مترادف ہیں۔ عالمی معاہدہ کی رو سے تو ان تحدیدات میں نرمی پیدا کی جانی چاہئے تھی لیکن ٹرمپ انتظامیہ کی ہٹ دھرمی کے نتیجہ میں ایسا نہیں ہو پایا ہے ۔ ابراہیم رئیسی کیلئے یہ ایک چیلنج سے کم نہیں ہوگا کہ وہ عالمی طاقتوں کو ایک بار پھر اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرے تاکہ ان تحدیدات میں نرمی پیدا کی جاسکے ۔ ایران کے مالیاتی اور تجارتی مفادات کو بحال کیا جاسکے ۔عالمی سطح پر تجارت میں ایران کو ایک بار پھر سرگرم کیا جاسکے ۔ ایران کو عالمی تجارتی منظر میں لائے بغیر اس کی معیشت کو مستحکم بنانا یا پھر اس کے معاشی مسائل کو کم کرنا آسان نہیں ہوگا ۔ جہاں تک امریکہ کا سوال ہے حالانکہ وہاں ٹرمپ کو صدارتی انتخابات میں شکست ہو گئی ہے اور جو بائیڈن امریکہ کے نئے صدر بن گئے ہیں ۔ تاہم ابھی تک یہ پوری طرح واضح نہیں ہوسکا ہے کہ آیا ٹرمپ کی روش کو برقرار رکھا جائیگا یا پھر ایران کے معاملے میں امریکہ کوئی واجبی اور انصاف پسندی والا موقف اختیار کریگا ۔ جو بائیڈن نے حالانکہ ٹرمپ دور کے کئی فیصلوں کو مسترد کرنے کے اشارے دئے ہیں لیکن ابھی تک ایران کے ساتھ طئے پائے معاہدے کے تعلق سے بائیڈن انتظامیہ کا بالکل واضح موقف سامنے نہیں آیا ہے ۔ ایسے میں ایران کے مسائل و چیلنجس برقرار ہی دکھائی دے رہے ہیں۔
نیوکلئیر معاہدہ کے تعلق سے جہاں تک امریکہ کے موقف کا سوال ہے تو یہ بھی شبہات غیر واجبی نہیں ہوسکتے کہ امریکہ کا موقف اسرائیل کے دباو کا تابع رہے گا ۔ اسرائیل امریکہ پر اثر انداز ہونے کی مسلسل کوشش کریگا کہ ایران کے ساتھ نرمی والا یا پھر منصفانہ رویہ اختیار نہ کیا جائے ۔ علاقہ میں ایران کو ہی اسرائیل اپنے لئے سنگین خطرہ تصور کرتا ہے ۔ سفارتی سطح پر دونوں ممالک کے مابین جو شدید اختلافات ہیں وہ عالمی معاہدہ کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں اور آگے بھی ایسے ہی اندیشے لاحق ہیں۔ ایسے میں جب تک بائیڈن انتظامیہ کے موقف کا اظہار نہیں ہوجاتا اس وقت تک ایران کیلئے مسائل برقرار رہیں گے ۔ علاوہ ازیں داخلی سطح پر بھی ابراہیم رئیسی کیلئے مسائل کم نہیں ہیں۔ ایران کی صدارت ان کیلئے ایک چیلنج بھرا کام ہوگا اور ان کو انتہائی صبر و تحمل اور سیاسی تدبر و دوراندیشی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ ایران کے داخلی حالات پر معاشی تحدیدات کے جو اثرات ہیں ان کو کم سے کم کرنے کیلئے ایران کی حکومت مسلسل کوشش کرتی رہی ہے ۔ حسن روحانی نے بھی اپنے دور میں ان حالات کو ممکنہ حد تک قابو میں رکھنے کیلئے جدوجہد کی تھی لیکن تحدیدات کا اثر واضح طور پر محسوس کیا جا رہا تھا ۔ یہی حالات ابراہیم رئیسی کیلئے بھی ہیں اور انہیں بھی عالمی سطح پر جہاں ایران کو واجبی اور جائز مقام دلانے کی جدوجہد درپیش ہوگی وہیں داخلی سطح پر بھی حالات کو قابو سے باہر ہونے سے بچانے کیلئے جامع حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ہوگا ۔
پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بھی ایران کے نئے صدر کیلئے چیلنج سے کم نہیں ہونگے ۔ افغانستان کی صورتحال بھی ایران کیلئے توجہ کی طلبگار ہوگی ۔ پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر اور متوازن بنائے رکھنے کیلئے بھی ابراہیم رئیسی کو خاص دلچسپی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ بحیثیت مجموعی یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایرانی صدارت ابراہیم رئیسی کیلئے چیلنج سے بھرا کام ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے انہیں سیاسی تدبر اور دور اندیشی کے ساتھ حکمت عملی کی بھی ضرورت ہوگی ۔ ایک جامع حکمت عملی کے ساتھ ایران کی مشکلات کو کم سے کم کرنے کی راہ کا ابراہیم رئیسی کو تعین کرنا ہوگ
