اب دہلی فرقہ پرستوں کے نشانہ پر

   

زخم پر زخم دیئے وقت نے مجھکو پھر بھی
مسکراتا ہوں میں حالات کے آئینے میں
رام نومی جلوس کے موقع پر ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں ہوہئے فرقہ وارانہ تشدد اور واقعات کے بعد اب ہنومان جینتی کے موقع پر دہلی کو فرقہ پرستوں نے نشانہ بنایاہے ۔ دہلی میں ہنومان جینتی کے موقع پر جلوس کو ایک راستے سے گذرنے کی اجازت دی گئی تھی تاہم واپسی کا راستہ دوسرا تھا لیکن جلوسی اسی راستے سے واپس آئے اور مسجد کے قریب انہوں نے شر انگیزی کی جس کے جواب میں مسلمان بھی مشتعل ہوگئے ۔ اب پولیس کی جانب سے گرفتاریوں اور کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ دہلی پہلے ہی حساس کہی جاسکتی ہے ۔ اسمبلی انتخابات سے قبل دہلی میں جو فساد کروایا گیا تھا جس میں پچاس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس کے اثرات اب تک دہلی پر دکھائی دے رہے ہیں۔ سماج کے دو طبقات کے مابین نفرت پھیلانے کیلئے جن عناصر کو ذمہ داری دی گئی ہے یا جنہوں نے نام نہاد ذمہ داری قبول کی ہے ان کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی ضرورت ہے ۔ ان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے ۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت مقدمات درج کرتے ہوئے عدالتوں سے سزائیں دلائی جانی چاہئے تاکہ دوسروں کیلئے عبرت کا سامان ہوسکے ۔ تاہم جہاں تک ہمارے ملک میں پولیس کا سوال ہے تو پولیس نے ایک روش بنالی ہے ۔ فرقہ وارانہ واقعات میں ہندو شرپسندوں کو قانون کے مطابق سزا دلانے کی بجائے انہیں سزاوں سے بچانے کے راستے زیادہ تلاش کئے جاتے ہیں اور اقلیتی طبقات کے نوجوانوں کو ناکردہ گناہوں کی سزائیں دلانے کیلئے کوئی کسرباقی نہیں رکھی جاتی ۔ نفاذ قانون کی ایجنسیاں اور پولیس کی جانب سے دوہرے معیارات اختیار کئے جا رہے ہیں اور سیاسی آقاوں کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں اورفریضہ سے پہلو تہی کی جا رہی ہے ۔ یہ جو روایت شروع ہوگئی ہے اس کے نتیجہ میں شرپسندوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں یا انہیں پہلے ہی سے باخبر کردیا گیا ہے کہ ان کے خلاف پولیس کوئی کارروائی نہیں کرے گی ۔ حالیہ عرصہ میں جو واقعات پیش آئے ہیں ان سے تو کم از کم یہی تاثر ملتا ہے کہ پولیس بھی ان عناصر کی حامی ہے ۔
دہلی میں بی جے پی کے قائدین کی جانب سے ماحول کو پراگندہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی تھی ۔ کچھ بی جے پی قائدین نے تو غنڈہ اور موالی سے زیادہ اوچھا رول ادا کرتے ہوئے اپنی متعصب اور جنونی سوچ کا ثبوت دیا تھا ۔د ہلی پولیس نے بھی سابقہ فسادات میں جو کارروائیاں کی تھیں وہ سب پر عیاں ہے ۔ پولیس کی موجودگی میں اقلیتوں کو انتباہ دینے والے غنڈے آج آزاد ہیں بلکہ کچھ تو سرکاری عہدوںاور ذمہ داریوںپر بھی فائز کردئے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف تشدد کو روکنے کی کوشش کرنے اور امن قائم کرنے کیلئے جدوجہد کرنے والوںکو سنگین مقدمات درج کرتے ہوئے جیل میں بھیج دیا گیا ہے ۔ ان کی ضمانتیں بھی اب تک ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ جن عناصر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے تھا وہ سرکاری عہدوں کی مراعات حاصل کر رہے ہیں اور جو لوگ امن کیلئے جدوجہد کر رہے تھے ان کی ستائش کرنے کی بجائے انہیں جیل میں بند کردیا گیا ہے ۔ یہ وہ صورتحال جس نے ہر متفکر اور صحیح العقل شہری کو پریشان کردیا ہے ۔ اس صورتحال نے سارے ہندوستان کے ماحول پر بھی اثر چھوڑا ہے ۔فرقہ پرست عناصر کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں ۔ حکومتوں کی درپردہ تائید اور پولیس کی کھلے عام جانبدارانہ کارروائیوں کی وجہ سے بھی ان عناصر نے اپنے ایجنڈہ کو پورا کرنے میں مزید تیزی پیدا کردی ہے ۔
دارالحکومت دہلی کی جہاں تک بات ہے تو وہاں کی پولیس مرکزی حکومت کے تحت آتی ہے ۔ امیت شاہ اس کے ذمہ دار ہیں۔ انہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ جو فرقہ پرست عناصر ہیں اور جنہوں نے امن کو درہم برہم کرنے کی منظم سازش کی ہے انکو بخشا نہ جائے ۔ پولیس پر کوئی سیاسی دباؤ نہیںہونا چاہئے بلکہ پولیس کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کی تکمیل کیلئے پوری اجازت اور چھوٹ دی جانی چاہئے ۔ جن عناصر نے بھی ماحول کو پراگندہ کیا ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کیا ہے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جانی چاہئے ۔ دہلی میں اگر سخت کارروائی کی جاتی ہے تو ملک کی دوسری ریاستوں کیلئے بھی اس سے ایک پیام ملے گا اور وہاں بھی فرقہ پرستوں پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے ۔