اب سرکاری اسکول میں بھی ’ داخلے بند ‘ کا بورڈ

   

سرکاری اسکولس میں انگریزی میڈیم کے آغاز کے بعد نئے داخلوں میں اضافہ
حیدرآباد 26 جون ( سیاست نیوز ) تلنگانہ حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولس میں انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنانے اور اسکولس کو ترقی دینے کی کوششیں ایسا لگتا ہے کہ ثمرآور ہونے لگی ہیں اور ان اسکولس میں داخلہ لینے والے طلبا کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ اسی طرح ضلع کریمنگر کے کارخانہ گڈہ علاقہ کے سرکاری پرائمری اسکولس میں اب داخلے بند ہونے کا بورڈ لگادیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اسکول میں داخلہ کیلئے اولیائے طلبا مسلسل اسکول آ رہے ہیں۔ خاطر خواہ تعداد میں داخلے دینے کے بعد داخلے بند کردئے گئے ہیں۔ اب تک دیکھا جاتا تھا کہ بڑے کانوینٹ اور کارپوریٹ اسکولس میں داخلے بند کا برڈ دکھائی دیا کرتا تھا تاہم اب یہ بورڈ ایک سرکاری اسکول پر بھی دکھائی دیا ہے جس پر کہا جا رہا ہے کہ یہ اسکولس کی حالت کو بہتر بنانے حکومت کی کوششوں کا نتیجہ ہے ۔ لوگ خانگی اسکولس کی بجائے سرکاری اسکولس میں اپنے بچوں کو داخلہ دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ اسکول ٹیچرس اور ہیڈ ماسٹر کو مسلسل عوام کے فون کالس مل رہے ہیں کہ ان کے بچوں کو اس اسکول میں داخلہ دیا جائے ۔ کہا گیا ہے کہ کچھ سیاسی قائدین اور مقامی کارپوریٹرس بھی داخلوں کیلئے سفارش کر رہے ہیں۔ اسکول میں پہلے جملہ 150 طلبا موجود تھے ۔ نئے داخلوں کے بعد یہ تعداد 360ہوگئی ہے ۔ چوتھی اور پانچویں جماعت میں فی کس 90 اور دسویں جماعت میں 60 طلبا موجود ہیں۔ اس طرح اب اسکول میں مزید طلبا کی گنجائش نہ رہنے کا عذر پیش کیا گیا ہے ۔ اسی لئے اسکول میں داخلے بند کا بورڈ لگادیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ طلبا کی تعداد کو دیکھتے ہوئے ایک جماعت کے علیحدہ سیکشن بنانے کلاس رومس دستیاب ہیں لیکن اساتذہ کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کیا جاسکتا ۔ اسکول ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ انگریزی میڈیم کے آغاز کے بعد اس طرح کی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں سرکاری اسکولس میں اپنے بچوں کا داخلہ کروانا چاہتے ہیں۔