اب سوشلسٹ نظریات بھی نشانہ

   

Ferty9 Clinic

مرکزی حکومت کیلئے سوائے آر ایس ایس کے ایجنڈہ کے کسی بھی نظریہ کو قبول کرنا مشکل نظر آتا جا رہا ہے ۔ ملک کی تقریبا تمام جامعات اور یونیورسٹیز کے نصاب میں اپنے ایجنڈہ کے مطابق تبدیلیوں کا عملا آغاز تو حکومت نے بہت پہلے کردیا تھا تاہم اب ایجنڈہ کے مطابق نصاب کی تبدیلیوں کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے ۔گذشتہ دنوں دہلی کی تاریخی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے نصاب میں تبدیلی کرتے ہوئے مخالف اسلام مواد کو شامل کیا گیا ہے اور اس کی لئے افغانستان میں طالبان کو عذر کے طور پر پیش کیا گیا ہے ۔ ہندوستان کے مسلمانوں کا نہ صرف افغانستان یا وہاں سرگرم طالبان میںسے کسی کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس کو بنیاد بناتے ہوئے مخالف اسلام مواد کو یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کرنا انتہائی مذموم فعل ہے ۔ اس پر کسی بھی گوشے کی جانب سے کوئی تنقید نہیں کی گئی ۔ کچھ گوشوں نے حالانکہ اس پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے لیکن کسی نے بھی اس مواد کو حذف کروانے کے تعلق سے کوئی عملی کام نہیں کیا ہے ۔ اسی طرح اب ایسا لگتا ہے کہ نریندرمودی حکومت کیلئے سوشلسٹ نظریات بھی قابل قبول نہیں رہ گئے ہیں۔ یوم پیدائش یا پھر برسی کے موقع پر بی جے پی کے ذمہ داران اور خود ملک کے وزیر اعظم بھی جئے پرکاش نارائن کو خراج پیش کرتے ہیں ۔ ان کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ لیکن اب بہار میں جئے پرکاش نارائن یونیورسٹی کے ایم اے پولیٹیکل سائینس کے نصاب میں تبدیلی کرتے ہوئے ایسا مواد کو حذف کردیا گیا ہے جو سوشلسٹ نظریات کی عکاسی کرتا رہا ہے ۔ ایم اے پولیٹیکل سائینس کے نصاب میں ان حصوں کو حذف کردیا گیا ہے جو لوک نائک جئے پرکاش نارائن اور رام منوہر لوہیا سے متعلق تھے ۔ ان کی بجائے اب دین دیال اپادھیائے سے متعلق مواد کو شامل کرتے ہوئے حکومت نے اپنے ایجنڈہ اور عزائم کو واضح کردیا ہے ۔ سوشلسٹ نظریات کے حامل قائدین کی بہار میں کافی اہمیت رہی ہے اور آج بھی ان کا احترام کیا جاتا ہے ۔ تاہم بی جے پی کیلئے صرف اپنے نظریات اور ایجنڈہ کو آگے بڑھانا ہی اصل مقصد رہ گیا ہے ۔
اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ یونیورسٹی سابق چیف منسٹر لالو پرساد یادو نے اپنے عہد وزارت اعلی میں قائم کی تھی ۔ انہوں نے بھی اس مواد کی تبدیلی پر شدید اعتراض کیا ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ خود چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے اس پر برہمی ظاہر کی ہے ۔ حالیہ عرصہ میں نتیش کمار وقفہ وقفہ سے بی جے پی کے ساتھ تعلقات میں بے چینی محسوس کرنے لگے ہیں اور اس کا برملا اظہار بھی کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے گذشتہ دنوں میں قائد اپوزیشن تیجسوی یادو کے ساتھ وزیر اعظم سے نمائندگی کی تھی کہ ریاست میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کی جائے ۔ اس سے قبل انہوں نے پیگاسیس جاسوسی مسئلہ پر بھی اپوزیشن کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ بتدریج بی جے پی اور نتیش کمار میں اختلافات بڑھنے لگے ہیںاور بی جے پی نتیش کمار کو ریاست کا چیف منسٹر برقرار رکھتے ہوئے اپنے عزائم اور مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتی ہے ۔ بی جے پی نے اپنے اقدامات کے ذریعہ نتیش کمار کی بحیثیت چیف منسٹر اہمیت کو کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے اور شائد اس بات کا اب نتیش کمار کو احساس ہونے لگا ہے ۔ جئے پرکاش نارائن اور رام منوہر لوہیا سے متعلق مواد کی تبدیلی اور اس کو حذف کئے جانے پر نتیش کمار نے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور اس کو انہوں نے غیر ضروری اور نا مناسب قرار دیا ہے ۔ تاہم ابھی بھی مرکزی حکومت یا وزارت فروغ انسانی وسائل پر اس مخالفت کا کوئی اثر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔
بی جے پی نے ملک کے تقریبا تمام اہم اداروں کو ایک رنگ میں رنگنے کی اپنی کوششوں کا نریندر مودی حکومت کی پہلی معیاد کے دوران ہی آغاز کردیا تھا ۔ اب بتدریج اس کام کو آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ ملک کی یونیورسٹیز اور جامعات کے تعلق سے بی جے پی کے عزائم پہلے سے واضح ہوچکے تھے اور ان کو عملی شکل دینے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ کئی مواقع پر تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ من گھڑت باتوں کو شامل کرنے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے۔ اس طرح تعلیمی نظام کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے اور تمام فکرمند گوشوں کو اس تعلق سے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے حکومت کو ایسے کاموں سے باز رکھنے آگے آنا چاہئے ۔