اب سونو سود بھی نشانہ پر ؟

   

Ferty9 Clinic

ہندوستان بھر میں جب لاک ڈاون چل رہا تھا اور ملک کے عوا م کی ایک کثیر تعداد مسائل کا شکار تھی اور پریشان تھی ۔ کئی لوگوں کو اپنے آبائی مقامات تک پہونچنے کیلئے سہولیات دستیاب نہیں تھیں۔ انہیں کھانے تک کا مسئلہ درپیش تھا ۔ کئی لوگ پیدل سینکڑوں کیلو میٹر کا سفر کرتے ہوئے اپنے آبائی مقامات کو بے یار و مددگار حالات میں پہونچنے پر مجبور ہوگئے تھے اور سرکاری سطح پر ان کی کسی طرح کی کوئی مدد نہیں کی جا رہی تھی اور وہ حالات کی مار کھانے کیلئے تن تنہا چھوڑ دئے گئے تھے ایسے میں ایک فلم اداکار ابھرتا ہے اور وہ ملک بھر میں عوام کی ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کسی کو بسوں کا انتظام کرتے ہوئے ان کے آبائی مقامات تک پہونچاتا ہے ۔ انہیںراستے میں کھانے پینے کی سہولیات مہیا کرواتا ہے ۔ کسی کو آپریشن کیلئے ایک سے دوسرے شہر فضائی سفر کے ذریعہ منتقل کرواتا ہے ۔ دواخانوںمیں بستر مہیا کرواتا ہے اور ممکنہ حد تک ہر ایک کی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ بعض مواقع پرکام کرنے کے خواہش مند افراد کو روزگار فراہم کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے ۔ یہ سارے کام وہ کام تھے جو حکومتوں کو کرنے چاہئے تھے ۔ حکومتوں نے اپنے طور پر کچھ کیا ہے یا نہیں یہ الگ سوال ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اداکار سونو سود نے سارے ملک کے عوام کے دلوں میں اپنی امدادی اور خیراتی سرگرمیوں کے ذریعہ جگہ بنالی ہے ۔ فلموں میںویلین کا کردار کرنے والا سونو سود حقیقی زندگی میںہیرو کے طور پر ابھرکر سامنے آیا ہے ۔ کئی ریاستوں میں اور بے شمار شہروں میںلوگ اس کے دل دادہ ہوگئے ہیں۔ بعض مقامات پر اس کی مندر تک بنادی گئی ہے ۔ اس کی پوجا کی جا رہی ہے ۔ اس کے چاہنے والے اس کے نام سے کاروبار شروع کر رہے ہیں اور دلوں میں جو محبت ہے اس کا مختلف طریقوں سے اظہار کیا جا رہا ہے ۔ سماجی سطح پرسونو سود کی خدمات کی تقریبا ہرگوشے کی جانب سے ستائش و سراہنا کی گئی ہے ۔ سونو سود کی انہیں خدمات کو دیکھتے ہوئے اور عوام میں مقبولیت کو دیکھتے ہوئے دہلی کی اروند کجریوال حکومت نے انہیں حکومت دہلی کا سفیرمقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس سلسلہ میںسونو کی کجریوال سے ملاقات بھی ہوئی تھی ۔
شائد یہی وہ مرحلہ تھا جب سونو سود کئی گوشوں کیلئے ناپسندیدہ بننے لگے ۔ حالانکہ عوام میں آج بھی ان کی مقبولیت بہت زیادہ ہے اور لوگ انہیںدل سے پسند کرنے لگے ہیں لیکن شائد دہلی حکومت کے ساتھ ان کی وابستگی کو سیاسی حلقوں میں پسند نہیں کیا جارہا ہے ۔ سونو سود نے ابھی تک یہ اشارہ بھی نہیںدیا ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونگے تاہم ان کی اروند کجریوال سے ملاقات شائد بہت سوں کو پسند نہیں آئی ہے اسی لئے آج سونو سود کو بھی شائد نشانہ بنانے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں۔ آج ممبئی میں ان کے دفتر پر محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے ۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ یہ صرف سروے تھا کوئی چھاپہ نہیں تھا ۔ اب محکمہ کی جانب سے اس طرح کی کارروائیوں کو سروے کا نام دیا جا رہا ہے ۔ دو دن قبل کچھ صحافتی اداروں اور نیوز ایجنسیوں کے دفاتر کی تلاشی لی گئی تھی اور انہیں بھی سروے کا نام دیا گیا تھا ۔ سونو سود کے دفاتر پر سروے کی اطلاعات پر سوشیل میڈیا پر شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور یہ شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ چونکہ کجریوال حکومت کے سفیر بننے کیلئے سونو سود تیار ہوئے ہیںاسی لئے انہیںنشانہ بنانے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ بی جے پی کی جانب سے انہیں نشانہ بنانے کی تردید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس ایک آزاد ادارہ ہے ۔ اس کا اپنا ایک طریقہ کار ہے اور اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے کچھ اطلاعات ملنے پر ان کے دفاتر کا سروے کیا گیا ہے اور یہ کوئی چھاپہ قسم کی کارروائی نہیں تھی ۔
یہ قیاس آرائیاں بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں کہ سونو سود نے حالانکہ ابھی کوئی اشارہ نہیں دیا ہے لیکن انہوں نے سیاست میںداخلہ کا امکان بھی مسترد نہیں کیا تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ آئندہ پنجاب انتخابات میں عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پر مقابلہ بھی کریں۔ سونو سود آئندہ دنوں میںسیاست میں شمولیت اختیار کرتے ہیںیا نہیں یا انتخابات میںمقابلہ کرتے ہیں یا نہیں یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے لیکن اگر انہیں ان کی مقبولیت اور محض حکومت دہلی کے برانڈ ایمبسڈر بننے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے تو ایسا کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے ۔ ایک شخص نے بے لوث انداز میں ملک کے عوام کی خدمت کی ہے جس کا اعتراف نہ کیا جائے تو نشانہ بھی نہیں بنایا جانا چاہئے ۔