اب غذا پر بھی پابندی !!

   

Ferty9 Clinic

ملک کے مختلف شہروں میں حکومتوں اور انتظامیہ کی جانب سے یہ طئے کیا جانے لگا ہے کہ عوام کو کیا کھانا چاہئے اور کیا نہیں ۔ ملک کے دستور میں عوام کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی غذا استعمال کرسکتے ہیں۔ ویجیٹیرین یا نان ویجیٹیرین رہنا عوام کا اپنا اختیار ہے اور اس پر حکومتوں کا کوئی کنٹرول نہیں ہوسکتا ۔ تاہم ہندوستان میں وقفہ وقفہ سے ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں عوام کے اہم طبقات کے مابین خلیج میںاضافہ ہونے لگا ہے ۔ مختلف شہروں اور ریاستوں میںمختلف اقدامات کے بعد اب گجرات کے دو شہروں احمدآباد اور ودودرہ میں لب سڑک نان ویجیٹیرین غذا کی فروخت پر امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ کچھ مفادات حاصلہ کے سیاسی مفادات کی تکمیل کی کوشش ہے ۔ گجرات میںقبائلی عوام کی تقریبا 15 فیصد تعداد ‘ دلتوں کی آٹھ فیصد تعداد ‘10 فیصد مسلمان اور مزید 20 فیصد مختلف طبقات کی آبادی ہے جو گوشت خور یا نان ویجیٹیرین ہے ۔ یہ لوگ اپنی مرضی سے گوشت کھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عیسائیوںاور راجپوتوں کی کچھ تعداد بھی گوشت کا استعمال کرتی ہے ۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو گجرات کی جملہ آبادی میں نصف سے زیادہ حصہ نان ویجیٹیرین ہے ۔ یہ لوگ کسی دباؤ یا کسی اور کی مرضی سے نہیں بلکہ اپنی مرضی سے گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر دو بڑے اور اہم شہروں احمد آباد اور ودودرہ میںگوشت سے بنی غذائی اشیاء کی فروخت پر امتناع عائد کیا جاتا ہے تو یہ صرف سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ہی کوشش ہے ۔ گجرات میں گوشت کی فروخت یا استعمال غیر قانونی نہیں ہے جس طرح شراب پر امتناع عائد ہے ۔ اس کے باوجود شراب کی چوری چھپے فروخت ہوتی ہے لیکن اس کے خلاف کوئی جامع کارروائی نہیںکی جاتی ۔ اس کے برخلاف گوشت سے بنی اشیا کی فروخت پر امتناع عائد کردیا گیا ہے اور اس کے مختلف پہلو ہیں۔ صرف فرقہ وارانہ نفاق کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے ذریعہ سینکڑوں افراد کا روزگار بھی متاثر ہوگا ۔ اس سے عوام کی اپنی مرضی سے غذا استعمال کرنے کے حق کی خلاف ورزی بھی ہوتی ہے ۔
حکومتوں کی جانب سے عوام کو روزگار فراہم کرنے اوربیروزگاری وغربت کا خاتمہ کرنے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئیں لیکن کچھ ریاستوں میں حکومتوں کی جانب سے ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں عوام کو روزگار تو نہیں مل رہا ہے بلکہ جو کچھ روزگار وہ اپنے بل بوتے پر حاصل کر رہے ہیں انہیں بھی چھینا جا رہا ہے ۔ سینکڑوں خاندان ایسے ہیں جو ٹھیکہ بنڈیوں اور لب سڑک چھوٹی موٹی دوکانوںپر تجارت کرتے ہوئے اپنا اور اپنے افراد خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔ روزی روٹی حاصل کرتے ہیں ۔ انہیں مختلف اقدامات کے ذریعہ راحت دینے اور ان کی تجارت کو مستحکم کرنے کی بجائے حکومتیں ایسے اقدامات کر رہی ہیں جن کے نتیجہ میں ان کے چھوٹے موٹے روزگار بھی ختم ہو رہی ہیں۔ ایسے اقدامات کا مقصد بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا جائے ۔ ان کا روزگار چھینا جائے ۔ ان کی آمدنی ختم کردی جائے ۔ ایس کرتا ہوئے ریاست کی معیشت پر بھی اثر پڑسکتا ہے اس کے نتیجہ میں بیروزگاری میںاضافہ ہوگا ۔ عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا ۔ ایسے کاروبار کرنے والوں کیلئے دو وقت کی غذا حاصل کرنا بھی مشکل ہوجائیگا ۔ پہلے ہی مہنگائی کی وجہ سے کئی خاندانوں کیلئے جینا مشکل ہوتا جا رہاہے ۔ ان کیلئے اپنی اور اپنے افراد خاندان کی ضروریات کی تکمیل بھی آسان نہیںرہی ہے ایسے میں اگر حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ان سے عوام کی مشکلات میںمزید اضافہ ہی ہوگا ۔ کوئی راحت نہیں ملے گی ۔
جہاں تک انتظامیہ کی جانب سے ایسے احکام کی اجرائی کا سوال ہے تو یہ عوام کے بنیادی حق کی خلاف ورزی بھی کہی جاسکتی ہے ۔ ملک کے دستور میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے غذا کا استعمال کریں۔ انہیں کسی مخصوص غذا کا عادی بنانے کا انتظامیہ یا حکومتوںکو کوئی حق یا اختیار حاصل نہیںہے ۔ بی جے پی حکومتوں کی جانب سے عوام کی غذائی عادات کو بھی قانون کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یہ در اصل ایک مخصوص ایجنڈہ سبھی پر مسلط کرنے کی کوشش ہے جبکہ ایسا کرنے کا حکومت کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔ فرقہ وارانہ منافرت کی عینک سے دیکھتے ہوئے اقدامات کرنے سے حکومتوں کو گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک کے دستور عوام کے روزگار کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلے کئے جانے چاہئیں۔