اب قبرستان اور منادر

   

Ferty9 Clinic

ویسے تو بی جے پی ملک کی ہر ریاست میں جہاںوہ انتخابات کا سامنا کرتی ہے ہندو ۔ مسلم نفرت کو فروغ دیتے ہوئے اور فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دیتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے ۔ اس کا ایک نکاتی ایجنڈہ فرقہ پرستی کو فروغ دینے ہی کا ہے ۔ تاہم جہاں بات اترپردیش کے انتخابات کی آتی ہے تو پھر یہ کوششیں اپنی انتہاء کو پہونچ جاتی ہیں۔ اترپردیش میں ماحول کو پراگندہ کرنے میں اعلی قائدین تک بھی کسی سے پیچھے رہنے تیار نہیںہوتے ۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر خود وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک تقریر کرتے ہوئے قبرستان اور شمشان کا تذکرہ کیا تھا ۔ عید اور دیوالی کا حوالہ دیا تھا اور مذہبی جذبات کو بھڑکاتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی ۔ اب جبکہ اترپردیش میں آدتیہ ناتھ حکومت کی معیاد مکمل ہونے والی ہے اور آئندہ سال کے اوائل میں انتخابات ہونے والے ہیںایسے میں ایک بار پھر سے ماحول کو اسی نہج پر لیجانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ اس بار ان کوششوں کا ذمہ فی الحال خود چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے سنبھال لیا ہے ۔ آدتیہ ناتھ ویسے بھی ہمیشہ زہر افشانی ہی کرتے ہیں۔ مسلمانوں سے نفرت ان کا وطیرہ ہے اور اسی وجہ سے انہیں پہلے رکن پارلیمنٹ اور پھر چیف منسٹر بنایا گیا ہے ۔ اب انہوں نے انتخابات سے قبل ماحول کو پراگندہ کرنے کیلئے ایک نیا بیان دیا ہے اور کہا کہ اترپردیش میں پہلے سرکاری رقومات قبرستانوں پر خرچ کی جاتی تھیں اور اب یہی رقومات مندروں پر خرچ کی جا رہی ہے ۔ اترپردیش میں جاری دیپوتسو تقاریب کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آدتیہ ناتھ نے یہ تقابل کیا ہے ۔ ویسے بھی وہ ہمیشہ ہی سے ہندو۔ مسلم نفرت کو فروغ دینے میں یقین رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی ہی ان کی شناخت ہے ۔ ایسے میں ان کی جانب سے اس طرح کا بیان دیا جانا نئی بات نہیں ہے لیکن اس بار سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے اس طرح کا بیان دیا ہے ۔ یہ بیان در اصل بی جے پی کے حقیقی چہرہ کو انتخابات سے قبل آشکار کرنے والا بیان ہے ۔
مختلف سرویز میں یہ بات سامنے آنے لگی ہے کہ ریاست کے عوام آدتیہ ناتھ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ کورونا وباء کے دوران جس طرح کی مشکلات اور پریشانیوں کا عوام کو سامنا کرنا پڑا اور عوام کو دبانے اور کچلنے کے جو حربے حکومت کی جانب سے اختیار کئے گئے تھے ان کی وجہ سے حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ عوام کی ناراضگی ظاہر ہونے لگی ہے ۔ خاص طور پر حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج نے عوامی موڈ کو ظاہر کردیا ہے ۔ کئی ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی حکومتیں ہیں وہاں اپوزیشن جماعتوں کو کامیابی ملی ہے اور بی جے پی امیدواروں کو عوام نے یکسر مسترد کردیا ہے ۔ ایسے میں بی جے پی نے ایک بار پھر سے فرقہ پرستی کا سہارا لینا ہی ضروری سمجھا ہے ۔ خاص طور پر اترپردیش میں بی جے پی فرقہ پرستی کے ایجنڈہ کو مزید آگے بڑھاسکتی ہے اور یہاں حالات کو مزید پراگندہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے جس کا واضح اشارہ آج خود چیف منسٹر آدتیہ ناتھ نے دیدیا ہے ۔ یہ بیان انتہائی مذموم کہا جاسکتا ہے اور ایسے بیانات کی ہندوستانی سیاست میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئے ۔ جو لوگ ملک کے اہم اور دستوری و قانونی عہدوں پر فائز ہیں انہیں تو کم از کم اس طرح کی بیان بازی سے گریز کرنا چاہئے اور ان عہدوں کے وقار کو مجروح کرنے سے گریز کیا جانا چاہئے لیکن بی جے پی کے چیف منسٹرس ہوں یا دیگر ذمہ دار وزراء وہ صرف اقتدار پر برقراری کیلئے اخلاقیات و اصولیات کی دھجیاں اڑانے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔
ہندوستان ایک سکیولر ملک ہے اور یہاں ملک و حکومت کا کوئی مذہب نہیں ہوسکتا ۔ عوام کا اپنا مذہب ہے اور ہر ایک کو اپنے اپنے مذہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دستور ہند میں دی گئی ہے ۔ حکومتوں کا کام عوام کیلئے مندروں کو سجانا یا انہیں فروغ دینا نہیں ہے ۔ سرکاری رقومات کا بیجا استعمال کرنے کا حکومتوں کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔ یہی آدتیہ ناتھ حکومت ہے جس نے کورونا بحران کے دوران عوام کو کوئی راحت نہیںپہونچائی اور نہ کوئی مالی مدد کی ہے ۔ اب یہی حکومت عوامی رقومات مندروں پر خرچ کرنے کا دعوی کرتے ہوئے عوام کو مذہب کے نام پر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے ذریعہ ماحول کو پراگندہ کیا جا رہا ہے ۔ ایسی کوششوں کے خلاف عوام کو بھی چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔