اب گوبر سے آمدنی

   

Ferty9 Clinic

نتیجہ پھر سے کہیں ملتوی نہ ہوجائے
میرا سوال ترے امتحان میں گم ہے
ہمارے ملک کے وزیر اعظم اپنے بیانات کیلئے بھی زیادہ شہرت رکھتے ہیں اور وہ ایسے بیانات دیتے ہیںجو دوسروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے ۔ انہوں نے کئی مواقع پر ایسے بیانات دئے ہیں جن پر بعد میں عوام سوال کرتے رہ گئے یا پھر وہ مذاق کا موضوع بن گئے ہیں۔ ماضی میں ہمارے وزیر اعظم نے نالی سے گیس پیدا کرنے کا بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح سے بھی گیس تیار کی جاسکتی ہے کہ نالی میں پائپ رکھ کر چولہے سے جوڑ دیا جائے ۔ اب اترپردیش میں انہوں نے ایک اور نیا بیان دیا ہے جس میں انہوں نے عوام کو تیقن دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ مستقبل میں گوبر سے بھی آمدنی کو یقینی بنائیں گے ۔ در اصل اترپردیش میںانتخابات کا عمل اب اپنے اختتامی مراحل کی سمت بڑھ رہا ہے اور اب تک چار مراحل میں ووٹ ڈالے جاچکے ہیں۔ اب پانچویں مرحلہ کی مہم بھی اختتام کو پہونچ رہی ہے ۔ جو اطلاعات گشت کر رہی ہیںان کے مطابق اب تک بی جے پی کو چار مراحل میں بہت بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اپوزیشن نے جو سماجوادی پارٹی کی قیادت میں ایک اتحاد بنالیا ہے پورے جوش و خروش کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے یہ دعوے ہیں کہ وہ اب تک 200 نشستوں پر کامیابی کے تعلق سے پرامید ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے داخلی حلقوں میں بھی اترپردیش کی پولنگ کے بعد مایوسی کا ماحول پیدا ہونے لگا ہے ۔ خود بی جے پی قائدین کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ اس مرتبہ عوام ان کے حق میں ووٹ دینے تیار نہیں ہیں۔ ایسے میں بی جے پی نے ہر مرحلہ میں الگ الگ مسائل کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ پہلے مرحلہ میں کچھ مسئلہ رہا تو دوسرے مرحلہ میں کسی اور مسئلہ کو ہوا دی گئی ۔ تیسرے مرحلے میں کوئی مسئلہ چھیڑا گیا تو چوتھے مرحلہ میں بالکل ہی الگ موضوع پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اب جبکہ پانچویں مرحلہ میں یو پی ووٹ ڈالنے کی تیاری کر رہا ہے تو بی جے پی قائدین کی جانب سے آوارہ سانڈ کے مسئلہ کو ہوا دی جا رہی ہے ۔ یو پی میں آوارہ سانڈ کھیتوں کو تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں اور اس پر عوام میں ناراضگی ہے ۔ وہ حکومت سے خفاء ہیں۔
عوام کی اسی ناراضگی کو دور کرنے کیلئے وزیر اعظم نے گائے کے گوبر سے بھی آمدنی کو یقینی بنانے جیسا بیان دیا ہے ۔ بی جے پی قائدین کو یہ احساس ہے کہ وزیر اعظم چاہے کچھ بھی کہیں لوگ اس پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کریں گے ۔ ماضی میںایسا ہوا بھی تھا ۔ جب نریندر مودی نے 2014 کی انتخابی مہم میں بیرونی ممالک سے کالا دھن لاتے ہوئے ہر غریب شہری کے کھاتے میں 15 لاکھ روپئے جمع ہونے کی بات کہی تھی تو لوگوں نے اس پر یقین کرلیا تھا ۔ وزیر اعظم نے ہر سال 2 کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور عوام نے اس پر بھی یقین کرلیا تھا ۔ مہنگائی کم کرنے کی بات کی تھی اور اسے بھی عوام نے قبول کرلیا تھا ۔ تاہم اب صورتحال بدل گئی ہے ۔ پندرہ لاکھ روپئے جمع کروانے کی بات کو تو انتخابی جملہ قرار دے کر ختم کردیا گیا جبکہ سالانہ دو کروڑ روزگار کے وعدہ کو پکوڑے تلنے سے جوڑا گیا جس پر عوام نے منفی رد عمل کا اظہار کیا تھا ۔ اسی طرح مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن مہنگائی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے ۔گھریلو اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے اور عوام حکومت سے سوال کرنے لگے ہیں۔ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہر اہم وعدے کو یا تو انتخابی جملہ قرار دے کر فراموش کردیا جائیگا یا پھر کسی اور طرف موڑ کر خود بری الذمہ ہونے کی کوشش کی جائے گی ۔ ایسے میں عوام مرکز کی نریندر مودی حکومت اور اترپردیش کی آدتیہ ناتھ حکومت کے وعدوں پر آسانی یا جلدی بھروسہ اور یقین کرنے کو تیار نظر نہیں آر ہے ہیں اور اس کا احساس شائد بی جے پی کو ہونے لگا ہے ۔
کسانوں کی آمدنی کو 2022 تک دوگنی کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا لیکن الٹا کسانوں کو کئی مسائل کا شکار کردیا گیا ۔ اسی طرح کسانوں کو آوارہ سانڈ سے مسئلہ درپیش ہے اور اس کا کوئی حل دریافت کرنے کی بجائے انہیں ہتھیلی میں جنت دکھانے کی بات کی گئی ہے ۔ یہ در اصل انتخابات میں امکانی ناکامی کے اندیشوں کی وجہ سے بوکھلاہٹ ہے ۔ اسی وجہ سے ہر مرحلہ کی پولنگ سے قبل ایک الگ مسئلہ کو ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جس طرح سے عوام کا رد عمل ان مسائل پر سامنے آ رہا ہے ان کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ عوام اب بی جے پی اور اس کے قائدین کے ایسے بیانات پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔