اترپردیش انتخابات میں رائے دہی کا آخری مرحلہ بھی آج مکمل ہوجائیگا ۔ سات مراحل پر مشتمل طویل انتخابی عمل میں چھ مراحل میں ووٹ ڈالے جاچکے ہیں۔ ہر مرحلہ میں بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اپنی اپنی سبقت کا ادعا کیا گیا ہے ۔ اقتدار کے دعویدار دونوں ہی فریقین کی جانب سے دعوی کیا جا رہا ہے کہ وہ 403 نشستوں میں 300 سے زائد پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومت بنائیں گے ۔ انتخابی مہم کا ایک دن قبل ہی اختتام عمل میں آچکا ہے ۔ اب آخری مرحلہ میں پیر کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ شام ہی میں ایگزٹ پولس سامنے آجائیں گے اور 10 مارچ کو ووٹوں کی گنتی کے ساتھ ہی انتخابی عمل مکمل ہوجائے گا ۔ اترپردیش کے انتخابات کئی اعتبار سے اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ بی جے پی کیلئے ان انتخابات میں مشکلات درپیش رہیں۔ اسے اپنے ہی ارکان اسمبلی اور وزراء کے انحراف کا سامنا کرنا پڑا ۔ عوام میں ناراضگی دیکھی گئی ۔ سابق میں جس طرح سے بی جے پی مختلف چھوٹی جماعتوں کو ذات پات کی بنیاد پر یکجا کرتی رہی تھی اسی طرح اس بار اکھیلیش یادو کی قیادت میں سماجوادی پارٹی نے ان جماعتوں سے اتحاد کیا ۔ بی جے پی نے بھی ہرممکن کوشش کرتے ہوئے رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اکھیلیش یادو نے بھی اقتدار پر واپسی کی جدوجہد میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ کانگریس پارٹی پرینکا گاندھی کی قیادت میں اپنے سیاسی وجود کا احساس دلانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرتی نظر آئی ۔ اترپردیش کے رائے دہندوں نے اپنے اپنے فیصلے ووٹنگ مشینوں میں بند کردئے ہیں۔ اب ساتواں مرحلہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اگر بی جے پی اور سماجوادی اتحاد میںکانٹے کی ٹکر ہوتی ہے تو آخری مرحلہ کی نشستوں کے نتائج بہت اہمیت کے حامل ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے آخری مرحلہ میں ساری طاقت جھونک دی ہے ۔ ملک کے وزیر اعظم نے خود وارناسی میں تین دن قیام کیا ۔ عوام سے ووٹ مانگے ۔ اپوزیشن اتحاد نے بھی یہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ۔
اترپردیش کے رائے دہندوں کی جہاں تک بات کی جائے تو یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوتوا ایجنڈہ کی سیاست زیادہ اثر انداز ثابت نہیں ہوئی ہے جس کا بی جے پی کو یقین تھا ۔ ایسا تاثر عام ہوتا جارہا ہے کہ یہاں ووٹر نے اپنے مسائل کو ترجیح دی ہے ۔ انہوں نے روزگار کے مسئلہ پر اپنی رائے بنائی ہے ۔ آوارہ مویشیوں سے ہونے والے نقصانات کو پیش نظر رکھا ہے ۔ مہنگائی اور عوام کو پیش آنے والی مشکلات کو انہوں نے ذہن میں رکھتے ہوئے اپنی رائے بنائی ہے ۔ نوجوانوں کے مسائل اپنی جگہ ہیں اور خواتین نے بھی اپنے مسائل کو اہمیت دی ہے ۔ سماج کے ہر طبقہ کو اپنے مسائل کی فکر لاحق دکھائی دی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ہندوتوا ایجنڈہ پوری طرح ناکام ہوگیا ہے لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اس ایجنڈہ سے نوجوانوں اور خواتین کی ایک خاصی تعداد اوب چکی ہے اور انہیں اپنے مسائل کی فکر لاحق رہی ہے ۔ آخری مرحلہ کی رائے دہی اس اعتبار سے اہمیت کی حامل ہے کہ اس مرحلہ میں اقتدار کی کرسی کا فیصلہ ہوسکتا ہے ۔ اس اعتبار سے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہاں ہر جماعت نے آخری لمحات تک اپنی ساری طاقت جھونکی ہے ۔ وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنی پارٹی بی جے پی کے حق میں مہم چلائی ۔ سماجوادی پارٹی نے اپنے تمام بڑے قائدین کو یہاں انتخابی مہم میں اتار دیا اور اپنی حامی جماعتوں کے دوسری ریاستوں کے قائدین کی خدمات بھی حاصل کیں۔ پرینکا گاندھی واڈرا تنہا کانگریس کی مہم کی کمان سنبھالے ہوئے سرگرم رہیں۔
سابقہ مراحل میںسیاسی جماعتوں کی جانب سے مختلف مسائل کو ہر مرحلہ میں اجاگر کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ آخری مرحلہ میں یہ بڑے سیاسی قائدین کی مقبولیت کا امتحان بھی کہا جاسکتا ہے ۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی فیصلہ آخری مرحلہ میں ہوسکتا ہے کہ اقتدار کس کے ہاتھ آئے گا ۔ کس ایجنڈہ نے کس ایجنڈہ پر جیت حاصل کی ہے ۔ ایسے میں اترپردیش کے رائے دہندوں کی ذمہ داری میں اضافہ ہوجاتا ہے کہ وہ پورے سیاسی شعور کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کریں۔ اپنے ووٹ کے ذریعہ اپنی ترجیحات اور مسائل کو پیش کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یو پی کے نتائج سے آئندہ عام انتخابات کا ایجنڈہ طئے ہوسکتا ہے ۔
